تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 348
خور س سے مخفی سمجھوتہ کیا۔اب نتائج سے مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ تمہاری کن لوگوں سے مشابہت ہے۔پہلی سازش جو ایک نبی کے خلاف کی گئی تھی اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کی طاقت کمزور ہو گئی اورآہستہ آہستہ ایسے ذلیل ہوئے کہ ایک وقت زبردستی بابل کی طرف جلاوطن کر دیئے گئے۔بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بڑے دشمن یر بعام کے لئے بھی سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ بھاگ کر مصر چلا جائے(۱۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۴۰)۔مگر جب اللہ تعالیٰ کے دو نبیوں کے ماتحت انہوں نے وہی تدابیر اختیار کیں تو جلا وطنی سے اپنے وطن واپس آگئے اور ان کا دشمن تباہ ہو گیا۔اِن دو مثالوں کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ چونکہ اِس وقت یہود اُسی راستہ پر قدم مار رہے ہیں جس راستہ پر سلیمانؑ کے دشمنوں نے قدم مارا تھا۔اس لئے جس طرح سلیمان ؑ کے دشمن جلا وطن کئے گئے تھے۔اُسی طرح یہود کو بھی جلا وطن کیاجائے گا۔اور اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہو گا جیسے سلیمان کے دشمنوں سے ہوا اور یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ یہ جھوٹے ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے مخالفوں سے مشابہ ہیں۔چنانچہ یہود کو پہلے مدینہ سے جلا وطن کیا جائے گا۔پھر خیبر سے بھی نکال دیاجائے گا۔حتیّٰ کہ اُن کے ایرانی منصوبوں کی وجہ سے آخر اُن کو عرب سے بھی نکال دیا جائے گا۔اورخطہ ءِ عرب ان کے وجود سے بالکل پاک ہو جائے گا۔چنانچہ اُن کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ کسریٰ بھی ہلاک ہوا اور وہ خود بھی عرب سے جلا وطن کئے گئے۔پہلے اُن کو مدینہ سے نکالا گیا۔اور یہ لوگ خیبر میں چلے گئے پھر وہاں سے بھی نکالے گئے اور آخر اُن کو عرب کا ملک چھوڑنا پڑا جو بالکل اُس نتیجہ کے مطابق تھا جو حضرت سلیمان ؑ کے خلاف سازش کرنے کا ہوا تھا۔وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍمیں فرمایا کہ یہ لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ نبیوں کی مخالفت اور ایسے گھنائو نے کام کرنے والوں کا اُخروی زندگی کے انعامات میں کوئی بھی حصہ نہیں۔مگر اس کے باوجود یہ لوگ اِس قسم کی کارروائیوں سے باز نہیں آتے۔چنانچہ ایک دفعہ یہود کے دو ۲ عالم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے۔جب واپس گئے تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ اِس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے۔اُس نے کہا۔معلوم تو سچا ہوتا ہے۔دوسرے نے کہا۔میرا بھی یہی خیال ہے۔اس نے کہاکہ پھر کیا رائے ہے آیا قبول کر لیا جائے؟ اُس نے جواب دیا کہ جب تک جان میں جان ہے ماننا نہیں۔دوسرے نے کہا۔میرا بھی یہی ارادہ ہے(السیرة النبی لابن ہشام شہادة عن صفیة)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ دلائل اور سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے دل میں آپؐ کی سچائی کا اقرار کرتے تھے۔مگر زبان سے آپ کی سچائی کو نہیں مانتے تھے۔فرماتا ہے کہ ان کے بڑے