تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 349

بڑے لوگ جو شرارت کرنے والے ہیں وہ لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُکساتے ہیں اور وہ اس بات کی بُرائی کو بھی جانتے ہیں کہ ایسے کام اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔مگر پھر بھی اِن کاموں سے باز نہیں آتے۔وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس ذریعہ سے ہم نے اپنی جانوں کو خرید لیا ہے یعنی انہیں ہلاکت سے بچا لیا ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے اُلٹ ہے۔یہ لوگ اسی کے ذریعہ ہلاک ہوں گے۔چنانچہ اِدھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُن کو سزا دیں گے اور اُدھر ہم آخرت میں انہیں عذاب میں گرفتار کریںگے۔لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۔انہیں کیا معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اِس قدر طاقت حاصل ہو جائے گی کہ وہ انہیں عرب سے نکال دیں گے۔انہیں کیا پتہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایک دن بادشاہت اور حکومت مل جائے گی اور ان کے لئے عرب میں ٹھہرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔اِس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خفیہ منصوبوں اور خفیہ سو سائٹیوں کو سخت نا پسند کرتا ہے۔اور بابل کا واقعہ ایک استثنائی رنگ رکھتا ہے۔کیونکہ وہاں جو کچھ ہوا خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہوا۔وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ١ؕ اور اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو(انہیں معلوم ہو جاتا کہ) اللہ کی طرف سے ملنے والا بدلہ (ہی) لَوْكَانُوْا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۱۰۴ بہترین(بدلہ) ہے کاش کہ یہ جانتے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اگر یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اُن کو دین و دنیا میںبڑی ترقی ملتی۔مگر یہ محض اِس ضد کی وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں کہ کیوں ہم میں سے کسی پر الہام نازل نہیں کیا گیا۔بنو اسمٰعیل کا کیا حق تھا کہ اُن کے ایک فرد پر یہ کلام اُتارا جاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کو پتہ ہوتا کہ ہمارے لئے کیا کیا عذاب مقدر ہے اور مسلمانوں کو کیا کیا انعامات ملنے والے ہیں۔اور انہیں معلوم ہوتا کہ مستقبل میں حالات کیا شکل اختیار کرنیوالے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر عظمت اور شوکت حاصل کرنی ہے، تو یہ دوڑتے ہوئے آتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کر لیتے مگر ان کو مستقبل کا علم نہیں صرف دنیا طلبی میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے مخالفت کا شور مچا رہے ہیں۔