تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 347

خلاف باتیں کی جاتی تھیں جس کی ہلاکت کا خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا تھا۔وہ لوگ الہام کے ماتحت کام کر رہے تھے نہ کہ اپنی طرف سے۔وہاں خدا تعالیٰ کے نبیوں کی اتباع میں کام ہو رہا تھا۔نہ کہ نبیوں کے خلاف۔مگر اب تم چاہتے ہو کہ جس طرح دو ملائکہ صفت انسانوں نے بابل کی حکومت کو تباہ کیا اُسی طرح تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سلسلہ تباہ کر دو مگر تم ایسا نہیں کر سکتے۔کیونکہ تمہاری اُن کے ساتھ مشابہت نہیں بلکہ تمہاری مشابہت سلیمان علیہ السلام کے دشمنوں سے ہے۔وہاں بھی تم مخفی سمجھوتے کرتے تھے۔مگر آخر تم ہی جلا وطن ہوئے تھے۔اسی طرح یہاں بھی ہو گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم کے مقابلہ میں تم ناکام و نامراد رہو گے۔مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ درحقیقت جملہ مُسْتأنفہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ سلیمان ؑ کے دشمنوں کی بات اور ہے اور ہاروت اور ماروت پر جو کچھ نازل ہوا ہے وہ اور ہے۔اِن کا یہ دعویٰ کہ ہم ہاروت اور ماروت کے وقت کے لوگوں کے مشابہہ ہیں غلط ہے کیونکہ وہ جو کچھ کرتے تھے الہام الہٰی کے ماتحت کرتے تھے۔پس ان کی مشابہت صرف سلیمانؑ کے دشمنوں سے ہی ہے جنہوں نے ایک نبی کی مخالفت کی اور تباہ ہوئے۔ہاروت و ماروت کے وقت کے لوگوں کے ساتھ نہیں۔(۲)دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اِن کی مشابہت دوگروہوں سے ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے مخالفوں سے اور بابل کے مخالفوں سے۔پہلوں سے یہ صحیح معنوں میں مشابہ ہیں اور دوسروں سے صرف سطحی رنگ میں۔وَ يَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنْفَعُهُمْ اِس میں بتایا کہ یہود کا خیال یہ ہے کہ جس طرح ہم بابل سے فارس اور مید کے بادشاہ کی مدد سے آزاد ہو گئے تھے اُسی طرح اب بھی غیر حکومتوں سے ریشہ دوانیاں کر کے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت سے آزاد ہو جائیں گے مگر ایسا نہیں ہو سکتا۔ہاروت و ماروت کے وقت اُن کی کامیابی کا باعث یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کام کرتے تھے۔لیکن اب یہ اس کے حکم کے خلاف کر رہے ہیں۔اس لئے اب ان کا سلیمان ؑ کے مخالفوں کی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کافر کہنا اور کسریٰ سے مخفی سمجھوتہ کرنا اور بیرونی دشمنوں سے مل کر آپ کا مقابلہ کرنا جیسے خیبر کے وقت کیا گیا۔اُن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تباہ کرنے کی بجائے یہ یہودی لوگ خود تباہ ہوں گے گویا اس جگہ اُن کے متعلق پیشگوئی کر دی اور انہیں سمجھایا کہ وہ دو وقت خفیہ تدابیر سے مقابلہ کر چکے ہیں۔ایک سلیمانؑ کے وقت جبکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے نبی کی مخالفت کی تھی اور دوسرے ہاروت و ماروت کے وقت جبکہ بابل میں انہوں نے آزادی کے حصول کے لئے