تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 346

کی نقل کر رہے ہیں جو سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں شیطانی لوگ اُس کی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا کرتے تھے۔اِسی طرح یہ لوگ اُن باتوں کی بھی پیروی کرنا چاہتے ہیں جو بابل میں ہاروت اور ماروت پر نازل کی گئی تھیں۔مگر یہ نہیں سوچتے کہ سلیمان ؑ کا مقابلہ کرنے والے وہ لوگ تھے جو گندے اور ناپاک تھے اور ہاروت و ماروت سے خفیہ تدابیر سیکھنے والے وہ لوگ تھے جو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اُس میں حصہ لیتے تھے کیونکہ وہ بابل کے بادشاہ سے بنی اسرائیل کو نجات دلانے کے لئے کھڑے کئے گئے تھے۔وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ہماری بات مان لو اور اندر ہی اندر تیار ہو جائو۔جب خورس اور اس کی قوم باہر سے حملہ آور ہو تو تم اندر سے حملہ کر دو۔اور وہ یہ بات عورتوں کو نہیں بتاتے تھے کیونکہ وہ کمزور دل ہوتی ہیں۔اور اُن کے متعلق خطرہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں دوسروں کو نہ بتادیں۔پس فرمایا کہ تمہاری خفیہ تدابیر اور اُن تدابیر میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ خدا کے حکم سے لوگوں کو سکھاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہماری ان باتوں کو ردّ نہ کرنا ورنہ کفر ہو جائے گا۔کیا یہ لوگ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر کر رہے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کر رہے ہیں۔اور کیا یہ اس کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ جو اُسے ردّ کرے گا وہ کافر ہو جائے گا۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں وہ یہ بات نہیں کہہ سکتے تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے باغیوں سے مشابہ ہیں نہ کہ بابل کے باغیوں سے۔وَ مَا هُمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍمیں بتایا کہ بابل والے ملکوتی صفت انسان کسی کو نقصان یا ضرر نہیں پہنچاتے تھے۔وہ اگر کسی کو نقصان پہنچاتے تھے تو خدا کے الہام کے ذریعہ۔اپنے منشا سے ایسا نہیں کرتے تھے۔کیا یہ لوگ بھی الہام کے مدعی ہیں؟ کیا یہ بھی خدا کے کسی حکم کی تعمیل کر رہے ہیں؟ کیا انہیں بھی یہ الہام ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرو؟ مگر باوجود اس کے کہ ان کو ایسا کوئی الہام نہیں ہوتا۔جب ان کو ان باتوں سے منع کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہمیں اِس بات کی اجازت مل چکی ہے۔ہم بابل میں یہی کام کر چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا وہ باتیں اور صورتیں اور وجوہات تمہیں یہاں نظر آتی ہیں۔تمہارے مقابل پر تو نبی ہے جس کے خلاف تم کام کر رہے ہو اور اُس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوتا ہے۔پس تمہاری صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے مخالفوں اور دشمنوں سے مشابہت ہے، جس طرح وہ لوگ اُن کو کافر کہتے تھے اُسی طرح تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کافر کہتے ہو۔اور جس طرح وہ اُن کے خلاف جھوٹی باتیں لوگوں میں پھیلاتے تھے اُسی طرح تم يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ کے ماتحت ہیرپھیر کرتے ہو۔مگر بابل میں خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق دو نبیوں کے ماتحت ایسی قوم کے