تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 313

میکال کے معنے ہیں خدا کی مانند۔جس کی وجہ تسمیہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس فرشتہ کا کام زیادہ تر صفتِ ربوبیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے یعنی اُس کے سپرد دنیا کا رزق اور خبر گیری ہے اور جبریل کا روحانیات کے ساتھ تعلق ہے اور وہ کلامِ الہٰی لاتا ہے۔گویا ہدایت لانے کا کام جبرائیل کے سپرد ہے۔اور بُشْریٰ یعنی دنیوی ترقیات کے سامان مہیا کرنا میکائیل کا کام ہے اور بشرٰی ہمیشہ ہدایت کے تابع ہوتی ہے۔جب انسان اس تعلیم پر جسے جبرائیل لاتا ہے عمل کر کے مہدی بن جاتا ہے تب اُسے بُشْریٰ یعنی دنیوی انعامات حاصل ہوتے ہیں۔پس جو شخص مہدی نہ ہو وہ دنیوی انعامات بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اِسی طرح جو شخص جبرائیل سے دشمنی کرے گا میکائیل خود بخود اس کا ساتھ چھوڑ دے گا اور دشمن ہو جائیگا۔غرض یہود کو بتایا گیا ہے کہ اگر تم جبریل سے دشمنی کرو گے تو میکال بھی تمہارا دشمن ہو جائے گا اور اس طرح تمہارا دین اور دنیا دونوں برباد ہو جائیں گے۔جبریل اور میکال کے دوبارہ ذکر کرنے کا مقصد تاکید بھی ہے۔یعنی جو کوئی ان کا دشمن ہو گا اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی دشمنی میں اللہ اور اس کے ملائکہ اور اُس کے تمام رسولوں کی دشمنیاں بھی شامل ہیں۔پھر ان فرشتوں کا دوبارہ ذکر اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ فرشتے اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں وہ صرف ایک درمیانی واسطہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام نے فرشتہ کی مثال ہوا سے دی ہے (توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۹۴)یعنی جس طرح کلام کرنے والے اور سُننے والے کے درمیان ہوا کا واسطہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اور بندہ کے درمیان فرشتہ واسطہ ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اس واسطہ سے دشمنی کرتا ہے جو ایک ضروری چیز ہے تو دراصل اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ اس چیز سے نہیں بلکہ اُس سے دشمنی کرتا ہے جس نے اس واسطہ کو بنایا ہے۔کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انتخاب میں غلطی کی ہے۔پس دراصل جبرائیل کی دشمنی خدا کی دشمنی ہے اور جو آقا کا دشمن ہوتا ہے ماتحت بھی اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ میکائیل بھی ان کا دشمن ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ آقا ہے اور باقی سب اس کے تابع ہیں۔جو زنجیر کی کڑیوں کی طرح ہیں۔اگر زنجیر کی ایک کڑی ٹوٹ جائے تو ساری کی ساری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح جبریل کی دشمنی سے نہ صرف وہی بلکہ تمام ملائکہ دشمن ہو جاتے ہیں اور ایک کڑی کے ٹوٹنے سے ساری زنجیر بے کار ہو جاتی ہے۔یہود میکائیل کو اسرائیل کا شہزادہ اور اپنا دوست اور محافظ سمجھتے تھے۔اس لئے اُس کا خاص طو ر پر ذکر کرکے بتایا کہ جبرائیل ؑ کی دشمنی سے وہ بھی تمہارا دشمن بن گیا ہے۔پھر میکال کا اس لئے بھی خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب اُن کی کسی مقدس