تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 312
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ (تو اسے یاد رہے کہ) جو شخص (بھی ) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ۰۰۹۹ میکائیل کا دشمن ہوتو (ایسے) کافروں کا اللہ بھی یقیناً دشمن ہے۔تفسیر۔اِس میں بتایا کہ فرشتے تو ایک واسطہ ہیں جس طرح ہو ا آواز پہنچانے کا واسطہ ہے۔پس جو شخص اُن سے عداوت رکھتا ہے وہ درحقیقت اُس سے عداوت رکھتا ہے جس نے ان کو بھیجا۔اور اُس پر یہ الزام لگاتا ہے کہ اس نے انتخاب میں غلطی کی۔پس اس قسم کے خیالات کے یہ معنے ہیں کہ یہود خدا سے دشمنی کرتے ہیں۔کیونکہ ایلچی کی ہتک درحقیقت بادشاہ کی ہتک ہوتی ہے۔پس جو شخص فرشتوں میں سے کسی کو بُرا کہتا ہے وہ دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتا ہے کہ اُس نے وحی الہٰی نازل کرنے کے لئے ایک ناقص ہستی کو تجویز کیا۔پس جبریل کی دشمنی صرف ایک فرشتہ کی دشمنی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی دشمنی ہے۔پھر جو جبریل کا دشمن ہے وہ تمام ملائکہ کا بھی دشمن ہے۔کیونکہ جبریل خود ملائکہ میں سے ایک مَلک ہے۔پھر جبریل کی دشمنی کے نتیجہ میں انسان تمام رسولوں کا بھی دشمن بن جاتاہے کیونکہ جبریل ابتدا سے اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر کلامِ الہٰی لاتا رہا ہے۔آخر پھر جبریل کا ذکر کر کے یہود کو متنبہ کیا ہے کہ اس کو اپنا دشمن مت سمجھو ورنہ اس کی دشمنی تمہیں خدا تعالیٰ کے دشمنوں میں شامل کر دے گی۔اور خدا تعالیٰ کے افعال پر جرح کرنے والا انسان مجبور ہوتا ہے کہ وہ سب ملائکہ اور رسولوں پر بھی معترض ہو کیونکہ ان سب کی عزت ذاتِ باری تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ وابستہ ہے۔پس رُوحانی سلسلہ کے کسی ایک رُکن پر الزام لگانا یااُس سے عداوت کا اظہار کرنا انسان کو ہدایت سے بہت دُور لے جاتا ہے اور ایسے اشخاص آخر اللہ تعالیٰ کو اپنا دشمن بنا لیتے ہیں۔یعنی اُن فیوض اور برکات سے اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں جو اس کے دوستوں پر نازل ہوتی ہیں اور اُن عذابوں کے مورد بن جاتے ہیں جو اُس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔جبریل کے بعد میکائیل کا خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ یہود کا خیال تھا کہ میکال ان کا خاص مہربان فرشتہ ہے۔اور وہ اسے اسرائیل کا محافظ فرشتہ یا شہزادہ خیال کرتے تھے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Michael)