تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 314

ہستی کو کوئی نادان بُرا کہے تو وہ ضِد اور تعصب کی وجہ سے دوسرے کی مقدس ہستیوں کو بھی بُرا بھلا کہنے لگ جاتے ہیں۔چونکہ ممکن تھا کہ کسی وقت مسلمانوں میں سے بھی بعض نادان یہود کی ضِد کی وجہ سے میکال کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے اور ان دونوں فرشتوں کو یہود اور مسلمانوں کے خاص محافظ فرشتے قرار دے کر ایک دوسرے کے مقابل میں کھڑاکر دیا جاتا۔اِس لئے اس غلطی سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے میکال کا نام علیٰحدہ بھی لے دیا تاکہ یہود جب مسلمانوں کے سامنے یہ کہیں کہ جبریل ہمارا دشمن ہے تو مسلمان ان کے مقابلہ میں ان کی اس عداوت کی وجہ سے یہ نہ کہہ دیں کہ اچھا اگر جبرائیل تمہارا دشمن ہے تو میکال ہمارا دشمن ہے۔اِس خطرہ کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے میکال کا ذکر خصوصیت سے فرما دیا اور بتایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مقدس ہستیاں ہیں۔ان سے عداوت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔اگر یہود جبریل کے دشمن ہیں تو تم میکال کو بُرا نہ کہو۔بائیبل سے پتہ لگتا ہے کہ دنیا کو رزق دینے والا اور لوگوں کی خبر گیری کرنے والا فرشتہ میکال ہے۔چنانچہ دانیال باب ۱۰ آیت۱۳ میں لکھا ہے کہ ’’میکاایل جو مقرب فرشتوں میں سے ہے میری مدد کو پہنچا۔اور میں شاہانِ فارس کے پاس رُکا رہا۔‘‘ اور آیت۲۱میں لکھا ہے۔’’جو کچھ سچائی کی کتاب میں لکھا ہے تجھے بتاتا ہوں اور تمہارے مؤکل میکائیل کے سوا اس میں میرا کوئی مدد گار نہیں ہے۔‘‘ اِس طرح دانی ایل باب۱۲ آیت ۱ میں لکھا ہے:۔’’اور اس وقت میکائیل مقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے اُٹھے گااور وہ ایسی تکلیف کا وقت ہو گا کہ ابتدائے اقوام سے اس وقت تک کبھی نہ ہوا ہو گا۔اور اس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہو گا رہائی پائے گا۔‘‘ غرض میکال کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اس کے ساتھ دشمنی کرنے سے روکا ہے اور بتایا ہے کہ ایسا نہ ہو تم ضد میں آکر اپنا نقصان کر لو اور یہود کے مقابلہ میں میکال سے دشمنی کرنے لگو۔فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَمیں ضمیر کی بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ ضمیر کے استعمال سے یہ خطرہ تھا کہ لوگ اس کا مرجع میکال کو نہ قرار دے دیں۔پس ضمیر کی بجائے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر بتایا کہ اگر تم جبریل کو بُرا