تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 231
شاید اس آیت میں بھی پہلے گروہوں کا ہی ذکر ہے اور لکھنے سے مراد لکھوانا ہے۔فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَ وَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ۔اس میں بتایا ہے کہ یہ علماء تہرے عذاب کے مستحق ہیں۔ایک وجہ تو اُن کے عذاب کی پہلے بتائی جا چکی ہے کہجہّال کو گمراہ کرتے ہیں دوسری وجہ اُن کے عذاب کی یہ ہو گی کہ انہوں نے خدائی کلام کی طرف غلط باتیں منسوب کیں اور تیسری وجہ عذاب کی یہ ہو گی کہ اس حرکت کا محرک بھی نیک نہیں تھا بلکہ اُن کا مقصد اس تحریف سے صرف دنیا کمانا تھا پس ایک عذاب تو اُن کو فعلِ بد کی وجہ سے ملے گا اور ایک عذاب محرّکِ بد کی وجہ سے ہو گا۔اِس آیت میں سزا و جزاء کا ایک اہم فلسفہ بیان کر دیا گیا ہے۔فعلِ بد دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) فعلِ بد جو نادانی سے کیا جائے(۲) ٰفعلِ بد جو دیدہ دانستہ کیا جائے۔پھر یہ فعل آگے دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) وہ فعلِ بد جس کا محرک نیکی کا خیال ہو خواہ غلط خیال ہو (۲)وہ فعلِ بد جس کا محرک خود ایک ذلیل اور گندہ جذبہ ہو۔مثلاً کوئی شخص قتل کرتا ہے اور وہ قتل اس سے ناواقفی میں ہو جاتا ہے تو یہ فعلِ بد تو ہے لیکن یا تو اس کا مرتکب کلّی طور پر بَری قرار دیا جائے گا یا جب اُس نے پوری احتیاط سے کام نہ لیا ہو تو جزوی طور پر بری قرار دیا جائےگا۔لیکن ایک دوسرا شخص ایسا ہو سکتا ہے جس نے دیدہ و دانستہ قتل کیا مگر فرض کرو اس وہم کے ماتحت قتل کیا کہ یہ شخص میرے بچوں کو قتل کرنے والا ہے یا ہماری قوم کے فلاں بزرگ کو قتل کرنے والا ہے یا اُسے نقصان پہنچانے والا ہے۔یہ فعل بھی ہو گا تو بُرا مگر اس کا محرک نیک ہو گا۔ایک اور تیسرا شخص ایسا ہو سکتا ہے جو کسی شخص کو اس لئے قتل کر دیتا ہے کہ اس کا روپیہ چھین کر عیّاشی کرے۔اس شخص کا فعل بھی بُرا اور اُس کا محرک بھی بُرا۔پس یہ دوگناہوں کا مرتکب ہوتا ہے قتل کا بھی اور حرص و ہوا کا بھی۔اور اس لئے دوہرے عذاب کا مستحق ہو گا۔اس کے اُلٹ نیکیوں کا بھی یہی حال ہے اور اس کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں۔پس قرآن کریم کے اس جملہ میں کہ اُن پر عذاب ہو گا اُس تحریر کی وجہ سے جو اُن کے ہاتھوں نے لکھی اور اُن پر عذاب ہو گا اُ س دنیوی مال کی وجہ سے جو انہوں نے کمایا۔اخلاق کے اِس لطیف نکتہ کو بیان کیا گیا ہے اور جو شخص تقویٰ حاصل کرنا چاہے اُس کے لئے علم کا ایک دروازہ کھول دیا گیا ہے۔مسیحی اِس آیت سے یہ نتیجہ نکالا کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے نزدیک رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ تک بائبل اپنی اصلی شکل میں موجود تھی اگر ایسا نہ ہوتا تو محرف مبدّل بائبل کے بدلنے پر اعتراض کیوں کیا جاتا۔اِس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو ہم نے اس آیت کے معنے بائبل کے بدلنے کے نہیں کئے اس لئے یہ نتیجہ ہمارے معنوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے نہیں نکالا جا سکتا ( اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے نزدیک بائبل قرآن کریم کے وقت میں