تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 232

محرف مبدّل نہ ہوئی تھی کیونکہ ہمارے علم اور تحقیق میں یقیناً اُس وقت تک بائبل محرف مبدّل ہو چکی تھی۔میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اس آیت کے معنے میں نے یہ نہیں کئے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ بائبل حضرت مسیح ؑ کے زمانہ سے بھی پہلے محرف مبدّل ہو چکی تھی ) لیکن اگر آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ یہودی لوگ بائبل کو بدلا کرتے تھے تو بھی اِس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ بائبل قرآن کریم کے زمانہ تک محرف مبدّل نہیں تھی کیونکہ اس صورت میں اس آیت کا مفہوم تو یہ ہو گا کہ یہودی بائبل کو بدلتے ہیں اور جب اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ یہودی بائبل کو بدلا کرتے ہیں تو اس فقرہ سے کونسا عقلمند یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ یہودی بائبل کو بدلا نہیں کرتے تھے اور بائبل اُس وقت تک محرف مبدّل نہیں ہوئی تھی بے شک یہ اعتراض اُن کی طرف سے پیش کیا جا سکتا ہے کہ اگر بائبل کی تعلیم محرف مبدّل تھی تو اس کے بدلنے میں حرج کیا تھا اور اس پر ڈانٹا کیوں گیا؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ گویہودی قرآن کریم کے نزول سے پہلے بائبل میں تحریف و تبدیل کرنے لگ گئے تھے تو بھی اُن کا اس کام کو جاری رکھنا بُرا تھا۔بائبل کی نسبت تو بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک محرف مبدّل کتابِ آسمانی ہے۔اگر کسی سَو فیصدی انسانی بنائی ہوئی کتاب کو کوئی شخص غلطی سے خدائی کتاب سمجھتا ہو اور یہ سمجھتے ہوئے پھر اُس میں کوئی تبدیلی کرتا ہو تو وہ شخص بھی مجرم سمجھا جائے گا اس لئے نہیں کہ وہ ایک آسمانی کتاب کو بدلتا ہے بلکہ اس لئے کہ جس کتاب کو وہ آسمانی سمجھتا ہے اُسے کیوں بدلتا ہے قرآن کریم میں صاف آتا ہے کہ منافق لوگ رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اور کہتے تھے نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ۔( المنافقون:۲)یعنی منافق رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کو آ کر کہتے تھے کہ ہم خدا کی قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ تو اﷲ کا رسول ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بے شک تو اللہ کا رسول ہے مگر منافق اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔اِن آیات میں منافقوں کو ایک ایسی بات کہنے پر جھوٹا کہا گیا ہے جو سچی ہے اور جس کے سچا ہونے پر خدا تعالیٰ خود بھی گواہی دیتا ہے۔اُنہیں جھوٹا اِس لئے کہا گیا ہے کہ وہ دل سے اس بات کو نہیں مانتے تھے۔جس طرح دل نہ مانتے ہوئے ایک سچی بات پر ظاہر میں ایمان کا اظہار کرنا منافقت اور بے ایمانی ہے اِسی طرح غلط کتاب کو آسمانی سمجھتے ہوئے اس میں بگاڑ پیدا کرنا بے ایمانی اور کُفر کی علامت ہے اور یقیناً یہ جرم اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر خدائی کتاب میں تنبیہ کی جائے۔ایک عورت ہوش میں اپنے بچے کو قتل نہیں کرتی۔اگر ایک عورت ایک ایسے بچے کو جسے وہ اپنا بچہ سمجھتی ہے گو درحقیقت وہ اُس کا بچہ نہیں قتل کرتی ہے تب بھی ہم یہی یقین کریں گے کہ اُس عورت کا دماغ خراب ہے کیونکہ گو وہ اُس کا بچہ نہیں مگر وہ تو یہی سمجھتی ہے کہ وہ اُس کا بچہ ہے۔اِسی طرح گو رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کے