تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 230

آیت میں جُہّال کا ذکر کیا اور دوسری آیت میں اُس کے تابع علماء کا ذکر کر دیا اور یوں فرما دیا کہ وہ جُہّال جن کا پہلی آیت میں ذکر کیا گیا ہے علماء کی غیر ذمہ وارانہ حرکات کی وجہ سے گمراہ ہوئے ہیں۔اوّل علماء نے اُنہیں کتاب سے واقف نہیں کیا۔دوسرے غلط سلط باتیں کتاب کی طرف منسوب کر کے اِن جُہّال کو یاد کرا دیں اور کہہ دیا کہ یہی تمہاری کتاب کا مفہوم ہے۔پس اُن جُہّال کی تباہی اور بربادی کی ذمہ واری اُن علماء پر ہے اور ان کی گمراہی کا موجب اُن کی یہ بے ایمانی ہے کہ اپنے خیالات کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اُسے خدا تعالیٰ کی کتاب اُنہوں نے قرار دے دیا۔پس مذکورہ بالا جُہّال کو جو سزا ملے گی وہ تو ملے گی ہی مگر ساتھ ہی یہ علماء بھی اُن کی گمراہی کے ذمہ وار قرار دئے جا کر اپنے گناہوں کے علاوہ اُن جہلاء کے گناہوں کی سزا میں بھی حصہ دار ہوں گے۔اسی وجہ سے جُہّال کا ذکر کرنے کے بعد فرما دیا۔’’ پس عذاب نازل ہو گا اُن لوگوں پر جو کہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اﷲ کی طرف سے ہے۔‘‘ اور اِس طرح مختصر الفاظ میں ایک تو یہ بتا دیا گیا کہ یہود میں عالم بھی موجود ہیں مگر وہ اپنے علم سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔دوسرے یہ بتا دیا گیا کہجُہّال کی گمراہی کی ذمہ داری اِن علماء پر ہے۔اور تیسرے یہ بتا دیا گیا کہ جُہّال کو اُن کے عمل کی جو سزا ملےگی اِس میں علماء بھی اُن کو گمراہ کرنے کی وجہ سے شریک کئے جائیں گے کیونکہ گمراہی کے ذمہ وار وہی ہیں۔اتنے وسیع مضمون کو علماء کا ذکر پیچھے رکھ کر اور اُن کے ذکر سے پہلے صرف فاء کا حرف بڑھا کر ادا کر دیا گیا ہے۔لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا۔اس میں یہ بتایا ہے کہ یہ علماء دنیوی اغراض کے ماتحت دین کو بگاڑتے ہیں اور اُن کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ دین چاہے برباد ہو جائے ان کو دنیا مل جائے۔یہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ لکھا تو ہاتھ سے ہی جاتا ہے پھربِاَيْدِيْهِمْ کا لفظ کیوں بڑھایا گیا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اَیْدِیْ کا لفظ تاکید کے لئےبڑھایا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کَتَبَ کا لفظ کبھی لکھوانے کے معنوں میں بھی آ جاتا ہے جیسا کہ رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا اَکْتُبُ لَکُمْ کِتَا بًا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَ ہٗ اَبَدًا ( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اﷲ علیہ وسلم و وفاتہٗ)میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ میں تمہیں ایک عبارت لکھ دوں تاکہ میرے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔قرآن کریم سے بھی اور تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم لکھنا نہیں جانتے تھے پس اَکْتُبُ کا لفظ جو اس حدیث میں استعمال ہوا ہے اس کے معنے لکھوانے کے ہیں۔پس اِس جگہ پر اَیْدِیْھِمْ کے الفاظ بڑھا کر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اِس آیت میں علماء کا ذکر ہے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے تاکہ کوئی شخص یہ دھوکا نہ کھائے کہ