تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 218
غرض قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی لَام کا صِلہ استعمال ہوا ہے اُس کے معنے یا تو فرمانبرداری کے اور یا کسی خاص بات کے تسلیم کرنے کے ہوتے ہیں۔کلّی ایمان جو خدا اور اُس کے رسولوں پر لایا جاتا ہے اِن معنوں میں لام کا صلہ استعمال نہیں ہوتا۔پس اَفَتَطْمَعُوْنَ۠ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ کے معنے یہ ہیں کہ کیا تم امید کرتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیںگے۔کُمْ کی ضمیر بھی اسی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ کلّی ایمان تو خدا اور رسول پر ہوتا ہے مومنوں پر نہیں ہوتا۔اور بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے بعض لوگ یہودیوں پر حُسن ظنی رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ صلح اور محبت اور پیار سے رہیں گے تو وہ سچ کہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم ایسی امید رکھتے ہو تو سخت غلطی کرتے ہو۔معاہدوں کو پورا کرنا شرافت ِ نفس یا خشیت اﷲ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جو آدمی جھوٹ ،فریب اور دغا سے کام لیتا ہے اُس سے یہ امید کرنا کہ وہ معاہدہ کو پورا کرے گا بالکل خلاف عقل ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ اِس آیت میں مومنوں کو توجہ دلاتا ہے کہ تم اِن یہودیوں کے حالات کو دیکھو کہ کس طرح جھوٹ اور فریب سے کام لے رہے ہیں اُن کا جھوٹ اور فریب سے کام لینا اِس بات کا ثبوت ہے کہ ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ قَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ اُن میں سے ایک گروہ بظاہر يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ پر عامل ہے یعنی اﷲ تعالیٰ کا کلام سنتا ہے مگر ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ پھر وہ گروہ اُس کو اپنے مقام سے پھرا دیتا ہے مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ بعد اِس کے کہ وہ اُس کو خوب اچھی طرح سمجھ چکا ہوتا ہے وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۔اور اس حالت میں تحریف کا مرتکب ہوتا ہے کہ اُسے اپنے اس گناہ کا پورا علم ہوتا ہے۔یعنی تحریف گو بُری بات ہے لیکن اس صورت میں کہ انسان سے اُس کلام کے متعلق تحریف ہو جائے جس کو وہ سمجھا نہیں یا سمجھ توگیا ہو مگر بات بیان کرتے ہوئے غلطی سے کچھ اور مُنہ سے نکل جائے تحریف ، تحریف کرنے والے کی شرارت پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اُس کی ناسمجھی یا غلطی پر دلالت کرتی ہے مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِن یہودیوں کے حق میں یہ دونوں عذر موجود نہیں۔وہ اﷲ تعالیٰ کے کلام کے اصل مفہوم کو سمجھ کر پھر اُس کے خلاف بیان کرتے ہیں اور پھر یہ خلاف اِس وجہ سے نہیں ہوتا کہ نادانستہ اُن کے مُنہ سے کوئی بات غلط نکل جاتی ہے بلکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اُس کا اُنہیں علم ہوتا ہے۔پس جو لوگ اتنا بڑا افتراء کر سکتے ہیں اور اتنا بڑا ظلم کسی دوسری قوم کے مذہب اور دیانت کے متعلق کر سکتے ہیں یا خود اپنے مذہب یا اپنی قوم کے متعلق کر سکتے ہیں اُن کے متعلق یہ کب اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ شرافت اور دیانت کے ساتھ اپنے معاہدوں کو نباہیں گے۔اگر تو کلام اﷲ سے اِس جگہ پر یہودیوں کی کتابیں مراد لی جائیں جیسا کہ بالعموم پرانے مفسروں نے مراد لی ہے تو پھر بھی یہ بات عقل کے خلاف ہے۔کیونکہ جو شخص اپنے مذہب سے غدّاری کرتا ہے وہ دوسری قوم سے کس