تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 219
طرح دیانت داری کا معاملہ کرے گا۔اور اگر کلام اﷲ سے قرآن کریم مراد لیا جائے جیسا کہ بعض سابق مفسّروں نے بھی یہ معنے کئے ہیں اور میرے نزدیک یہی معنے سیاق و سباق سے نکلتے ہیں تو پھر بھی وہ یہودی جن کا اس جگہ ذکر ہے قابلِ اعتبار نہیں رہتے کیونکہ کلام الٰہی کسی قوم کی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے اور اس کے متعلق اُس کے جذبات سب سے زیادہ نازک ہوتے ہیں اگر یہودی قرآن کریم کو بگاڑ کر اور اسکے غلط معنے کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے عادی تھے اور مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کا اس بارہ میں کوئی خیال نہیں رکھتے تھے تو اُن سے یہ کیونکر امید کی جا سکتی تھی کہ وہ اُن سے کئے ہوئے دنیوی معاہدات کو پورا کریں گے۔جو شخص کسی کے نازک ترین جذبات کو مجروح کر دیتا ہے اُس سے یہ کب امید کی جا سکتی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا کرے گا۔اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی یہ عادت تھی کہ قران کریم کی آیتوں کو اُن کے سیاق و سباق سے جُدا کر کے اور غلط معنے کر کے لوگوں میں اسلام کے خلاف جوش پھیلایا کرتے تھے اور یہ عادت ہمیشہ سے انبیاء کے دشمنوں میں چلی آئی ہے۔کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خلاف یہ حربہ دشمن نے نہیں چلایا۔بلکہ کوئی سچائی دنیا میں ایسی نہیں ہوئی جس کے خلاف اُس کے دشمنوں نے یہ حربہ نہ چلایا ہو۔سچائی کی دشمنی جھوٹ پر انسان کو مجبور کر دیتی ہے۔آخر سچی بات کی مخالفت کوئی شخص کر ہی کس طرح سکتا ہے اور اُس کے خلاف لوگوں کو بھڑکا ہی کس طرح سکتا ہے۔اِسی صورت میں سچائی کی مخالفت انسان کر سکتا ہے جبکہ سچ کو جھوٹ کا رنگ دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرے۔آج اِس زمانہ میں بھی سب سے بڑا گناہ دنیا میں یہی ہو رہا ہے اور یہی چیز صداقت کے قبول کرنے سے لوگوں کو محروم کر رہی ہے۔اگر اس زمانہ کے لوگ اِس بات کا تہیّہ کر لیں کہ اپنے مخالف کے مذہب کو غلط رنگ نہیں دیں گے اور جو کچھ وہ کہتا ہے اُس کو اصل شکل میں اپنے اور اپنی قوم کے سامنے پیش کریں گے تو سچائی کا دریافت کرنا ہرگز مشکل نہ رہے اور تفرقہ اور شقاق اور نفاق بہت جلد دنیا سے دُور ہو جائے۔وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اور جب یہ لوگ مومنوں سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور جب ایک دوسرے سے علیحدگی میں ملتے اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ ہیں تو ( ایک دوسرے کو الزام دیتے ہوئے ) کہتے ہیں کیا تم انہیں وہ بات جو اللہ نے تم پر کھولی ہے اس لئے بتا تے ہو