تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 217
کرتا (۵) پانچواں مقام سورۂ بنی اسرائیل ہے۔یہاں دو جگہ نُؤْمِنُ کے ساتھ لام کا صلہ استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ فرماتا ہے۔قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا ( بنی اسراءیل:۹۱) اس جگہ بھی اطاعت اور فرمانبرداری ہی مراد ہے کیونکہ یہاں دنیوی سامانوں اور بادشاہت کا ذکر ہے۔دوسرے مقام پرا سی رکوع میں یوں آتا ہے۔وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ( بنی اسراءیل:۹۴) ہم تیرے چڑھنے پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں بھی ایک خاص بات ماننے کا ذکر ہے کلّی ایمان کا ذکر نہیں (۶) اِسی طرح سورۂ بقرہ میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً (البقرۃ :۵۶) یہاں قطعی طورپر فرمانبرداری کے ہی معنے ہیں اس لئے کہ وہ قوم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کلّی ایمان کا اظہار تو ملکِ مصر سے نکلتے ہوئے بھی کر چکی تھی۔پس یہاں فرمانبرداری کے ہی معنے ہیں یا یہ مراد ہے کہ ہم تیری اس خاص بات کو نہیں مانیں گے (۷)ساتویں جگہ سورۂ اعراف میں وہ جگہ لام کا صلہ استعمال ہواہے ایک جگہ آتا ہے وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ (الاعراف:۱۳۳) یہ آیت بنی اسرائیل کے مصر سے نکل جانے کے مطالبہ کے بعد آئی ہے پس اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ ہم تیری بات نہیں مانیں گے اور بنی اسرائیل کو نہیں بھیجیں گے۔چنانچہ اس کے ایک آیت کے بعد ہی دوسری دفعہ لام کا صلہ نُؤْمِنُ کے بعد استعمال ہوا ہے اور وہاں قطعی طور پر بات ماننے کے معنے ہیں کیونکہ وہاں یہ الفاظ ہیں۔لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ (اعراف:۱۳۵)ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔اگر کلّی ایمان مراد ہوتا تو وہ یُوں کہتے کہ بنی اسرائیل کو بھیجنا تو الگ رہا ہم تجھ پر ایمان لا کر خود بھی تیرے ساتھ روانہ ہو جائیں گے۔اٰمَنَ سے غائب کے صیغہ کا استعمال مفرد اور جمع دونوں ملا کر قرآن کریم میں ۸۰ دفعہ ہوا ہے۔اِن میں سے ۷۷ جگہ باء کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور دو جگہ لام کا صلہ استعمال ہوا ہے۔ایک تو اسی آیت زیربحث میں اور دوسرے سورۂ توبہ میں۔سورۂ توبہ ع ۸ میں اﷲ تعالیٰ رسول کریم صلے اﷲ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے یُؤْمِنُ بِاللہِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤمَنِیْنَ (التوبۃ :۶۱) یہاں صاف طور پر بات ماننے کا ذکر ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ کے لئے باء کا صلہ استعمال ہوا ہے جس پر ایمان کلّی ہوتا ہے اور مومنوں کے لئے لام کا صلہ استعمال ہوا ہے جس کے معنے بات ماننے کے ہیں اور اس جگہ ذکر بھی یہی ہے کہ منافق کہتے ہیں رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ہمارے خلاف دوسروں کی باتیں قبول کر لیتے ہیں۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے ہمارا رسول ٹھیک کرتا ہے۔اس کا طریق یہی ہے کہ وہ اﷲ پر کلّی ایمان لاتا ہے اور مومنوں پر اعتبار کرتا ہے۔