تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 200

اور سُنار کا کام کرتے تھے اُن میں سے کسی سُنار کے پاس بیٹھ گئی ( بعض دوسری روایات میں آتا ہے کہ اس نے اپنا کوئی زیور بننے کے لئے دیا ہوا تھا جب دیر ہو گئی تو وہ اپنے زیور کی تیاری کا حال پوچھنے کے لئے اس یہودی کے پاس آئی ) اُس عورت کے چہرے پر کپڑا جھکا ہوا تھا۔یہودی نے اسے کہا کہ اپنا مُنہ کھول دے ( اس وقت تک پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا مگر معلوم ہوتا ہے مسلمان عورتوں نے حیا کے اثر کے ماتحت خود بخود اپنے سروں اور چہروں کو ایک حد تک ڈھانکنا شروع کر دیا تھا) عورت نے انکار کیا۔اس پر اس شخص نے اُس کی اوڑھنی کو اُس کے تہ بند کے ساتھ تکلے کے ذریعے پر و دیا۔جب وہ کھڑی ہوئی تو جھٹکا لگ کر اُس کا کپڑا اُتر گیا اور وہ ننگی ہو گئی اس پر سب یہودی ہنس پڑے۔اس عورت نے شور مچا یا۔ایک مسلمان جو وہاں سے گزر رہاتھا اُس نے اُس یہودی کا جس نے یہ شرارت کی تھی مقابلہ کیا اور وہ یہودی اس کے ہاتھ سے مارا گیا۔اس پر دوسرے یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔اس واقعہ نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات اور بھی بگڑ گئے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر بنی القینقاع ) یہ ایک انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ جنگ بدر کے بعد کعب بن اشرف کی شرارتوں کی وجہ سے یہودی قبائل میں اسلام کے خلاف جو جوش پیدا ہو گیا تھا اس کی وجہ سے وہ لوگ چاہتے تھے کہ کوئی فساد ایسا کریں جس کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو قتل کرنے میں کامیاب ہو سکیں چنانچہ ابن سعد لکھتا ہے فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَۃُ بَدْرٍ اَظْھَرُواا لْبَغْيَ وَ الْحَسَدَ وَ نَبَذُ وا الْعَھْدَ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد ذکر غزوة بنی قینقاع) یعنی جب بدر کا واقعہ ہوا تو اس کے بعد یہودیوں نے فساد اور بغاوت کرنی شروع کر دی اور عہد کو توڑ دیا۔یہ شرارت اس حد تک ترقی کر گئی تھی کہ صحابہؓہر وقت اس خطرہ میں رہتے تھے کہ کوئی شخص دھوکا سے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر حملہ نہ کر دے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک صحابی طلحہ بن بَراء ؓ شدید بیمار ہوئے۔موت کی حالت قریب آ گئی تو وہ رات کا وقت تھا اس پر انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو نصیحت کی کہ ان کی وفات کی اطلاع رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو نہ کی جائے اور ان کے رشتہ دار خود ہی انہیں دفن کر دیں تاکہ آپ اُن کے اقرباء کی دلجوئی اور اُن کی تجہیزوتکفین میں شریک ہونے کے لئے ان کے گھر پر تشریف نہ لے آئیں۔مبادا اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر یہودی لوگ آپ پر حملہ کر دیں۔اصل الفاظ ان کے یہ ہیں فَاِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْہِ الْیَہُوْدَ وَاَنْ یُّصَابَ فِیْ سَبَبِیْ یعنی مَیں ڈرتا ہوں کہ یہود آپ پر حملہ نہ کر دیں اور میری وجہ سے آپ کو نقصان نہ پہنچے (الاصابہ فی تمییز الصحابة ذکرطلحۃ بن براءؓ) اس واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی طرف سے اُس وقت شرارت اتنی بڑھ چکی تھی کہ مسلمان ہر وقت اِس