تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 201

بات کا خطرہ محسوس کرتے تھے کہ کہیں رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر یہودی قاتلانہ حملہ نہ کر دیں۔پس رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے ان حالات کے ماتحت بنو قینقاع کے ایک مسلمان عورت کی بے حرمتی کرنے اور ایک مسلمان جو اس کا بدلہ لینے کے لئے گیا تھا اس کے مار دینے کے واقعہ کو ایک انفرادی واقعہ قرار نہیں دیا اور ہرعقلمند انسان اوپر کے واقعات سے یہی استدلال کرے گا کہ یہ انفرادی واقعہ نہیں تھا۔سوائے اُن متعصّب عیسائی مؤرخین کے جو اس کو انفرادی واقعہ قرار دے کر بیان کرتے ہیں کہ اس موقع پر چونکہ دونوں طرف سے قتل ہو گیا تھا سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ واقعہ ختم ہو گیا ہے (لائف آف محمد مصنّفہ میور صفحہ ۲۴۱) باقی ہر منصف مزاج ان تمام حالات کو دیکھ کر کہ ایک طرف مکّہ والوں کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے اُکسایا جانے لگا۔دوسری طرف مسلمان مستورات کے خلاف گندے شعر بنا بناکر علی الاعلان پڑھے جانے لگے۔تیسری طرف مسلمان عورتوں کی عزّت پر علی الاعلان حملہ ہونے لگا۔چوتھی طرف خود رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی زندگی پر حملہ کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔سمجھ سکتا ہے کہ یہ انفرادی واقعہ نہیں ہو سکتا۔آخر رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے بنو قینقاع کو جلاوطنی کی سزا دی اور جو ان جھگڑوں کے اصل بانی تھے یعنی کعب بن اشرف جو اس ساری شرارت کا اُٹھانے والا تھا اور ابورافع جو اس کا خسر اور اس کا حامی اور بنو نضیر قبیلہ کا سردار تھا ان دونوں کے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔کیونکہ مسلمانوں کے اصل قاتل اور رسول کریم صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل پر اُکسانے کے اصل ذمہ وار وہی دو شخص تھے۔کعب بن اشرف اپنی شرارتوں کی وجہ سے اور ابورافع اس کی امداد کرنے کی وجہ سے۔عیسائی مؤرخ آج تک شور مچا رہے ہیں کہ ان دونوں شخصوں کو بلاوجہ قتل کر دیاگیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس شرارت کے مقابلہ میں جو انہوں نے اُٹھا رکھی تھی اُن کا قتل بالکل بے حقیقت تھا۔میرے نزدیک آیت زیر تفسیر میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جو کچھ تم نے کیا تھا وہ تو کیا ہی تھا۔اب اس زمانہ میں کہ تم کو دوبار خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا موقع مِل رہا تھا تم نے پھر شرارت پر کمر باندھ لی ہے اور ایک عظیم الشّان نفس کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اس کے متعلق منصوبے کرتے ہو اور کئی قسم کی تدبیریں سوچتے ہو اور پھر ان شرارتوں کی ذمہ داری سے کلیۃً انکار کر بیٹھتے ہو لیکن یاد رکھو یہ تمہاری چال بازیاں کام نہ دیں گی۔اﷲ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اس قسم کی شرارتوں پر کون اُکسانے والا ہے اور وہ اس پردۂ راز کو کھول کر رکھ دے گا۔مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ درحقیقت