تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 199
ہے اور وہ واقعہ کعب بن اشرف اور ابورافع سلام بن ابی الحقیق دو یہودی سرداروں کے قتل کا ہے۔ان دونوں کو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے حکم کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔مخالفین اسلام اعتراض کرتے ہیں کہ لڑائی میں قتل یا لڑائی کے نتیجہ میں قتل تو خیر جائز کہلا سکتا ہے مگر ان دوشخصوں نے تو نہ لڑائی کی تھی نہ یہ کسی لڑائی کے جُرم میں پکڑے گئے تھے پھر انہیں کیوں قتل کیا گیا۔میرے نزدیک اس آیت میں اسی واقعہ کی تشریح کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قتل قومی جرائم کے نتیجہ میں تھے اور یہودی قوم ان کی ذمہ وار تھی۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی اعتراض نہیں آتا کیونکہ انہوںنے جو کچھ کیا خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اور جائز قصاص کی صورت میں کیا۔تشریح اس اجمال کی یہ ہے کہ جنگ بدر میں جب اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح دی تو یہود جنہوں نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے مدینہ میں ورود کے موقع پر مسلمانوں سے سمجھوتہ کر لیا تھا ان کے دل حسد سے جل گئے اور منافقین کے دلوں میں بھی اُس وقت سے بُغض کی آ گ سلگنے لگی۔درحقیقت بدر کی جنگ نے ایک طرف تو کفّار مکّہ کی شوکت کو توڑ دیا اور دوسری طرف یہود اور منافقین کے دلوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی کیونکہ اس سے پہلے وہ مسلمانوں کی آمد کو ایک وقتی اور معمولی تغیر سمجھتے تھے مگر اس جنگ کے بعد وہ اسکی اہمیت کو محسوس کرنے لگ گئے نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو منافقوں نے اندرونی طور پر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔دوسری طرف یہودی سردار کعب بن اشرف نے مسلمانوں کے خلاف یہودی قوم کو مختلف ذرائع سے بھڑکانا شروع کر دیا۔اور مکّہ والوں کو بھی مسلمانوں کے خلاف جوش دلانا شروع کر دیا اور ابورافع ابن حقیق نے اس کی پیٹھ ٹھونکی چنانچہ جنگ بدر ۲ ہجری کے رمضان کی سترھویں یا انیسویں تاریخ کو ہوئی اور اس جنگ کے معًا بعد کعب بن اشرف مکّہ گیا اور اس نے مکّہ والوں میں مسلمانوں سے بدر کے واقعہ کا بدلہ لینے کے لئے اشتعال پیدا کیا اور بڑے جوش سے کفار مقتولین کے مرثیے پڑھے اور قریش کو غیرت دلائی اور یہاں تک شرارت میں بڑھ گیا کہ مسلمان عورتوں کی نسبت تشبیب شروع کر دی یعنی ایسے شعر کہنے شروع کر دیئے جن میں مسلمان مستورات کی نسبت محبت کا اظہار ہوتا تھا۔یہ شعر لوگ پڑھتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف اُن کے دلوں میں جوش بھی پیدا ہوتا تھا اور ان کا رُعب بھی مٹتاتھا۔بڑھتے بڑھتے اِس ناپاک انسان نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ ٖوسلم کے چچا حضرت عباسؓ کی بیوی کے متعلق بھی تشبیب کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہونا شروع ہوا۔دوسری طرف یہودیوں نے علی الاعلان مسلمانوں کے خلاف اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیں اور مسلمان عورتوں سے تمسخر کرنا شروع کر دیا چنانچہ ایک مسلمان عورت ایک دن بازار میں کسی کام کے لئے گئی۔اس کے بعد وہ بنو قینقاع جو ایک یہودی قبیلہ کے لوگ تھے