تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 195

پکڑنے کے لئے کسی چیز پر سیاہی لگا دیتے ہیں اور ان جاہل لوگوں کو جن پر چوری کا شبہ ہوتا ہے کہہ دیتے ہیں کہ جاؤکمرہ میں جا کر اُس چیز کو ہاتھ لگاؤ جو چور ہو گا اُس کا ہاتھ اس چیز سے چپک جائے گا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو چور نہیں ہوتے وہ تو ہاتھ لگا آتے ہیں اور ان کے ہاتھوں کو سیاہی لگ جاتی ہے مگر چور پکڑے جانے کے ڈر سے ہاتھ نہیں لگاتا اور اس کے ہاتھ کو سیاہی نہیں لگتی اور اس طرح پکڑا جاتا ہے۔ہم ان قصص کو تسلیم کرتے ہوئے ایک سہل راستہ مخالف کو خاموش کرانے کا اختیار کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ایسی ہی ترکیب جس میں اس امر کو مدّنظر رکھ لیا گیا ہو کہ سچائی کو نقصان نہ پہنچے اور دھوکا نہ ہو۔اگر اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتا دی ہو تو اس سے مُردہ زندہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا یا مثلاً ہم یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اس موقع پر نشان کے طور پر کوئی بات ایسی ظاہر کر دی جس سے گائے کے ٹکڑے مارنے والوں میں سے جو قاتل تھا اس کا پتہ لگ گیا۔مثلاً یہی کہ اُس پرڈر کے مارے لرزہ طاری ہو گیا یا قاتل کے ٹکڑہ مارتے وقت مقتول کے جسم میں کسی اور سبب سے حرکت پیدا ہوئی اور قاتل یہ سمجھ کر کہ شائد وہ زندہ ہونے لگا ہے بیہوش ہو گیا یا ڈر کے مارے اُس نے اپنے جُرم کا اقرار کر لیا۔بہر حال اس آیت سے کسی مُردے کا زندہ ہونا اور مجرم کا پکڑوانا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔مگر یہ معنے بطور فرض کے اختیار کئے گئے ہیں اور مفسّرین کے معنوں کو ردّ نہ کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت کو اِس اعتراض سے بچانے کے لئے ہیں کہ اس میں تضاد پایا جاتا ہے۔کسی جگہ کہا ہے مُردے زندہ نہیں ہو سکتے اور کسی جگہ مُردے زندہ ہونے کی خبر دی ہے ورنہ میرے نزدیک اس آیت میں ایک مستقل مضمون بیان کیا گیا ہے اور اُن یہودی روایات سے جو خود ان کی اپنی کتابوں کے خلاف ہیں ہمیں استدلال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًاکی تشریح احمدی علماء کے نزدیک اور بعض اشکال پیشتر اس کے کہ مَیں وہ مفہوم بیان کروں جو میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔مَیں ایک اور معنی بیان کرتا ہوں جو جماعتِ احمدیہ کے بعض علماء کرتے ہیں اور جن معنوں میں اسی اصل کو مدّنظر رکھا گیا ہے کہ اِذْقَتَلْتُمْ والے واقعہ کا ذبحِ بقرہ والے واقعہ سے کوئی واقعاتی جوڑ نہیں۔اِن علماء کے نزدیک نَفْسًا سے مراد حضرت مسیح ناصری علیہ السلام ہیں اور قَتَلْتُمْسے مراد کوششِ قتل ہے یا مشابہ بالقتل کے معنے ہیں۔ان کی تفسیر کے مطابق اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل یاد کرو جب تم نے ایک عظیم الشّان جان یعنی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو قتل کرنا چاہا یا ان سے ایسا سلوک کیا کہ وہ مقتولوں کے مشابہ ہو گئے یعنی ان کو صلیب پر لٹکا کر مارنا چاہا۔فَادّٰرَءْتُمْ فِيْهَا۔اِس میں ھَا کی ضمیر نفس کی طرف بھی جا سکتی ہے اور واقعۂ قتل کی طرف بھی معنوی طور پر