تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 194
جب واقعات یہ ہیں تو پھر وجہ کیا ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب جن معنوں کو ردّ کرتی ہے۔بائبل میں جن معنوں کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اُن کو زبردستی قرآن کریم کی آیات پرٹھو نسا جائے اور ایسے معنے کئے جائیں جو عقل اور نقل کے خلاف ہیں اور دشمن کو قرآن کریم پر ہنسی کرنے کا موقع دیتے ہیں حالانکہ قرآن کریم کا مضمون واضح ہے۔اس زمانہ کے بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پوجا اور گائے کی پوجا کے امکانات صریح طور پر پائے جاتے تھے۔گائے کی قربانی کا حکم بھی بائبل میں موجود ہے اور اس میں جو اُس کی غرض بتائی گئی ہے وہ بھی قرآن کریم کے مفہوم کے مطابق معلوم ہوتی ہے یعنی یہودیوں کے دلوں سے گائے کے شرک کو دُور کرنا۔ان سب امور کی موجودگی کے باوجود اس آیت کے مضحکہ خیز معنے کرنا اور قرآن شریف کی آیات کی لطیف ترتیب کو بگاڑ کر ایک غیر معقول ترتیب اس کی طرف منسوب کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے اور جب ہم یہ تسلیم کر لیں کہ یہ قصص جن کی بناء پر ان آیات کے وہ معنے مفسرین نے کئے ہیں درست نہیں۔بائبل سے وہ ثابت نہیں۔قرآن کریم اُن کی تصدیق نہیں کرتا۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے اُن کے متعلق کچھ بیان نہیں فرمایا تو اب ہمارے لئے یہ رستہ بالکل کُھلا ہے اور یہی رستہ طبعی ہے کہ ہم گائے کے ذبح کرنے کے واقعہ کو بالکل الگ سمجھیں اور قتل کے واقعہ کو بالکل الگ سمجھیں اور اِذْ قَتَلْتُمْ کےالفاظ والی آیت کو اُن یہودی قصّوں، کہانیوں سے جن کی تردید خود بائبل سے بھی ہوتی ہے آزاد رکھ کر معنی کریں۔سابق مفسرین کے خیالات کے مطابق وَاِذْ قَتَلْتُمْکے امکانی معنے ہاں اگر مفسّرین کے خیالات کو تسلیم کر کے بطور تنزّل اس آیت کے معنے کرنے ہی پڑیں تو پھر بھی یاد رہے کہ اس آیت کے معنے یہ نہیں کئے جا سکتے کہ کوئی مُردہ گائے کے گوشت کے مارنے سے زندہ ہو گیا کیونکہ یہ معنی قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں بلکہ صرف یہی معنی کئے جا سکیں گے کہ گائے کا ٹکڑہ مارنے سے کوئی ایسی بات پیدا ہوئی جس سے قاتل پکڑا گیا اور خدا تعالیٰ نے یہ ترکیب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس لئے بتلائی تاکہ قاتل پکڑا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں یہ تشریح کی ہے لیکن جیسا کہ موقع اور محل سے ثابت ہے یہ تشریح مخالف کو قریب ترین رستہ سے پکڑنے کے لئے ہے۔اس جگہ پر آپ نے اس آیت کی خود تفسیر بیان نہیں فرمائی بلکہ اس کے اس استدلال کو ردّ کیا ہے کہ وہ اس آیت سے مُر دہ زندہ ہونے کا استدلال کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حقیقی مرُدہ کے زندہ ہونے کا ذکر نہیں صرف یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ گائے کا ٹکڑا مارنے سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوئی جس سے قاتل پکڑا گیا۔غرض چونکہ اعتراض کے جواب میں آپ نے یہ معنے بیان فرمائے ہیں اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ مخالف کی باتوں کو مان بھی لیا جائے تو اس سے وہ استدلال نہیں ہو سکتا جو وہ کرتا ہے۔ہمارے ملک میں لوگ چور کے