تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 196
جا سکتی ہے۔اور مراد یہ ہے کہ اِس واقعۂ صلیب کے بعد تم نے اُس نفس کے متعلق اختلاف کیا یا یہ کہ اِس واقعہ کے متعلق اختلاف کیا۔اگر واقعہ کے متعلق اختلاف لیا جائے تو اِس سے مراد یہ ہو گی کہ بعض نے یہ سمجھا کہ مسیحؑ صلیب پر مر گیا ہے اور بعض نے یہ سمجھا کہ مسیحؑ صلیب پر نہیں مرا۔اور اگر نفس کی طرف ضمیر پھیری جائے تو اِس صورت میں اس کے یہ معنے بنیں گے کہ تم نے مسیحؑ کے بارہ میں اختلاف کیا یعنی بعض نے یہ سمجھا کہ مسیح کی لاش چرُالی گئی ہے حالانکہ وہ مر گیا تھا اور بعض نے یہ قرار دیا کہ مسیح علیہ السلام زندہ صلیب پر سے اُتار لئے گئے تھے اور قبر میں سے بھاگ گئے۔وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۔میں اُن کے نزدیک اِس طرف اشارہ ہے کہ ایک دن اِن اختلافات کی حقیقت کو کھول دیا جائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے قرآنِ کریم ، انا جیل اور تاریخ سے یہ امرثابت کر دیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام صلیب پر چڑھائے ضرور گئے تھے مگر مرے نہیں تھے اور وہ زندہ اُتار لئے گئے تھے چنانچہ تین دن قبر میں رہ کر وہ پھر اپنے حواریوں میں چلے آئے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا کے معنے وہ علماء یہ کرتے ہیں کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ مسیح کی قاتل قوم کو اِس جرم کے بدلہ میں جو اُس نے مسیح ؑ کے حق میں کیا ہے مارو یعنی سزا اور عذاب دو۔گویا ہُ کی ضمیر قومِ یہود کی طرف جاتی ہے جو قاتل تھی اور ھَا کی ضمیر نفس کی طرف جاتی ہے جس سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہیں اور جُرم کے بعض حصّے سے مراد یہ ہے کہ کچھ حصّہ کی سزا فرشتے اُن کو دنیا میں دیں اور کچھ حصّہ کی سزا مرنے کے بعد انہیں ملے گی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب کے واقعہ کے متعلق سورۂ نساء رکوع ۲۲۔آیت ایک سو اٹھاون میں بحث آئے گی اِس جگہ اوپر کے معنوں کو سمجھنے کے لئے اختصاراً اس قدر بتا دینا کافی ہے کہ حضرت مسیح ناصریؑ کے واقعۂ صلیب کے متعلق مختلف اقوام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیحؑ کو انہوں نے صلیب پر لٹکا دیا اور صلیب پر ہی وہ مر گئے پھر اُن کی لاش کو ایک قبر میں رکھ دیا گیا جہاں سے اُن کے مرید اُن کی لاش کو اُٹھا کر لے گئے اور لوگوں میں یہ مشہور کر دیا کہ حضرت مسیح زندہ ہو گئے ہیں تاکہ وہ یہودیوں کے اس اعتراض سے بچ جائیں کہ جو شخص صلیب پر لٹکا کے مار دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے ( جس کی موت صلیب پر لٹک کر ہو اس کے متعلق لعنتی ہونے کا فتویٰ بائبل میں موجود ہے چنانچہ لکھا ہے۔’’ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے‘‘ استثنا باب ۲۱ آیت ۲۳ ’’جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے ‘‘(گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳) مسیحیوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر ضرور لٹکایا گیا تھا اور وہ صلیب پر مر بھی گئے لیکن چونکہ اُن کا صلیب پر لٹکایا جانا بغیر کسی گناہ کے تھا اس لئے مسیحیوں کے نزدیک گو حضرت مسیحؑ لعنتی ہوئے مگر وہ دوسروں کی خاطر لعنتی ہوئے اور دوبارہ زندہ ہو کر انہوں نے