تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 193

اثر ایساہوتا ہے کہ مُردہ زندہ ہو جاتا ہے تو اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ وہ طبّی اثر اب کیوں ظاہر نہیں ہوتا اور اگر کہا جائے کہ صرف اس قسم کی گائے کے گوشت میں وہ طبّی اثر ہوتاہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں کیا گیا ہے تو اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ اگر اِن صفات والی گائے میں یہ اثر ہے تو پہلے اﷲتعالیٰ نے عام گائے کے ذبح کرنے کا کیوں حکم دیا۔نیز اس قسم کی گائے کا مہیّا کرنا کوئی مشکل نہیں۔اب بھی تلاش سے ایسی گائے مِل سکتی ہے۔اس عقیدہ کے قائل اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔غرض کوئی معقول وجہ اِن دونوں آیتوں کو آپس میں ملانے کی نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ یہودیوں کی روایات کی بناء پر ان دونوں آیتوں کو ایک ہی واقعہ کی تفصیلات قرار دیا جائے مگر مشکل یہ ہے کہ یہود کی معتبر روایات بھی اس کے خلاف ہیں۔وَاِذْ قَتَلْتُمْ کی تفسیر میں سابق مفسرین کے خیالات کی تردید بائبل سے بائبل میں کسی ایسے واقعہ کا ذکر نہیں جہاں گائے کو ذبح کر کے کسی مُردے پر مارا ہو اور وہ زندہ ہو گیا ہو۔بیشک تورات استثناء باب ۲۱ آیت ۱ تا ۷ میں یوں آتا ہے۔’’ اگر اس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی ہے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا قاتل کون ہے۔تو تیرے بزرگ اور قاضی نکل کر اس مقتول کے گِردا گِرد کے شہروں کے فاصلہ کو ناپیں اور جو شہر اس مقتول کے سب سے نزدیک ہو۔اس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو۔اور نہ وہ جوئے میں جوتی گئی ہو۔اور اس شہر کے بزرگ اس بچھیا کو بہتے پانی کی وادی میں جس میں نہ ہل چلا ہو اور نہ اس میں کچھ بویا گیا ہو لے جائیں اور وہاں اس وادی میں اس بچھیا کی گردن توڑیں۔تب بنی لاوی جو کاہن ہیں نزدیک آئیں کیونکہ خداوند تیرے خدا نے ان کو چن لیا ہے کہ خداوند کی خدمت کریں اور اُس کے نام سے برکت دیا کریں اور انہیں کے کہنے کے مطابق ہر جھگڑے اور مار پیٹ کے مقدمہ کا فیصلہ ہوا کرے۔پھر اس شہر کے سب بزرگ جو اس مقتول کے سب سے نزدیک رہنے والے ہوں اس بچھیا کے اوپر جس کی گردن اس وادی میں توڑی گئی۔اپنے اپنے ہاتھ دھوئیں اور یُوں کہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ خون نہیں ہوا۔اور نہ یہ ہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا ہے۔‘‘ ا س حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہ گائے کے ذبح کرنے کا حکم اس لئے نہیں دیا گیا کہ اس کے کسی حصّہ کو مقتول پر مارا جائے نہ اس کا کوئی ذکر ہے کہ ایسا کیا گیا اور اس سے مُردہ زندہ ہو گیا اور اُس نے قاتل کی نشان دہی کی۔بلکہ گائے کے ذبح کرنے میں صرف یہ حکمت ہے کہ ایک طرف تو بنی اسرائیل کے دلوں سے گائے کا شرک دُور ہو دوسرے چونکہ وہ اسے مقدّس سمجھتے تھے اس پر ہاتھ دھو کر گواہی دینے کا مطالبہ کرکے ان سے سچ بلوانے کی کوشش کی گئی ہے۔