تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 14

ذریعہ سے نجات حاصل ہو جائے گی یا بزرگوں کی شفاعت سے یا پھر ان نسلی تعلقات سے جو انھیں حاصل ہیں اور یا ان مالی قربانیوں کی وجہ سے جووہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔اب میں الگ الگ ان تینوں امور کے متعلق یہودی اور نصرانی تعلیم کو بیان کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح یہ اقوام غلطی میں پڑ کر نجات کے حقیقی راستہ سے دُور جا پڑی ہیں۔پہلا باطل خیال جو یہود و نصاریٰ میں پیدا ہو گیا تھا اور اب تک موجود ہے اور جس کی تردید اس آیت میں قرآن کریم نے کی ہے یہ ہے کہ کوئی اور وجود ان کے گناہوں کا کفّارہ ہو جائے گا اور وہ اپنے گناہوں کی سزا سے بچ جائیں گے۔یہود میں یہ خیال ابتداءً قربانی سے پیدا ہوا یعنی جب تقویٰ کی حالت ان میں کمزور پڑ گئی۔تو انہوں نے اُن قربانیوں سے جن کا ان کے مذہب میں توبہ کی طرف توجّہ دلانے کے لئے حکم تھا یہ تسلّی حاصل کرنا شروع کر دی کہ یہ قربانیاں ان کے گناہوں کا حقیقی کفّارہ ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السّلام فرماتے ہیں ’’ اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اس جیتے حلوان کے سر پر رکھے۔اور بنی اسرائیل کی ساری بدکاریوں اور ان کے سارے گناہوں اور خطاؤں کاا قرار کر کے ان کو اس حلوان کے سر پر دَھرے۔اور اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کے لئے معیّن ہو بیابان کو بھجوا دے کہ وہ حلوان ان کی ساری بدکاریاں اپنے اوپر اُٹھا کے ویرانے میں لے جائے گا اور وہ اس حلوان کو بیابان میں چھوڑ دے‘‘ (احبارباب۱۶ آیت ۲۱،۲۲)نیز فرماتے ہیں’’ اور خطا کی قربانی کی بابت ایک بکرا۔تاکہ اس سے تمہارے لئے کفّارہ دیا جاوے‘‘ (گنتی باب۲۸آیت ۲۲)یعنی جہاں اور قربانیاں پیش کیا کرو وہاں اپنی خطاؤں کے کفّارہ کے طور پر ایک بکرا بھی قربانی کیا کرو تا وہ بکرا تمہارے لئے کفّارہ ہو جائے اور تمہارے گناہوں کو اپنی قربانی سے مٹا دے۔اس میں شک نہیں کہ یہ احکام حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے ہیں لیکن حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے دوسرے احکام کو دیکھتے ہوئے ان کے یہ معنے کرنے کہ بکرے یا بیل کی قربانی انسانی گناہوں کا حقیقی کفّارہ ہے بالکل درست نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام دوسری جگہ فرماتے ہیں’’ یہ وہ شریعتیں اور حقوق اور احکام ہیں جو خداوند تمہارے خدا نے مجھے فرمائے کہ مَیں تمہیں سکھلاؤں تاکہ تم اس سر زمین میں جس کے وارث ہوتے جاتے ہو ان پر عمل کرو تاکہ تُو خداوند اپنے خدا سے ڈرتا رہے اور اس کے سب حقوق اور اس کے سب حکموں کو جو میں تمہیں فرماتا ہوں حفظ کرے، نہ فقط توُ بلکہ ُتو اور تیرا بیٹا اور تیرا پوتا زندگی بھر۔تاکہ تیری عمر کے دن بڑھائے جاویں۔‘‘(استثناء باب۶ آیت ۱‘۲)