تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 15
پھر لکھا ہے ’’ سُن لے اے اسرائیل۔خداوند ہمارا خدا اکیلا خداوند ہے۔ُتو اپنے سارے دل اور اپنے سارے جی اور اپنے سارے زور سے خداوند اپنے خدا کو دوست رکھ اور یہ باتیں جو آج کے دن میں تجھے فرماتا ہوں تیرے دل میں رہیں اور توُیہ باتیں کوشش سے اپنے لڑکوں کو سکھلا۔اور تو اپنے گھر میں بیٹھتے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت ان کا چرچا کر اور تو ان کو نشانی کے لئے اپنے ہاتھ پر باندھ۔اور وے تیری آنکھوں کے درمیان ٹیکوں کی مانند ہوں گے انہیں اپنے گھر کی چوکھٹوں اور پھاٹکوں پر لکھ۔‘‘(استثنا باب ۶۔آیت ۴ تا ۹) پھر لکھا ہے’’اور تم وہی کرو جو خداوند کی نظر میں راست اور درست ہے۔تاکہ تمہارا بھلا ہو۔‘‘ (استثنا باب۶ آیت ۱۸) اوپر کے حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دل کی درستی اور نیکی اور توحید اور شریعت پر انتہا درجہ کا زور دیتے ہیں اور ان پر عمل کو ایسا ضروری قرار دیتے ہیں کہ انہیں تحریر و تقریر سے پھیلانے اور ایک دوسرے کی تلقین کرتے رہنے بلکہ در و دیوار پر لکھ رکھنے تک کی تاکید کرتے ہیں۔اس تعلیم کے بعد کیا ایک لمحہ کے لئے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک قوم کی قوم کے گناہ ایک بکرے کی قربانی سے دُھل جائیں گے۔اگر گناہوں کا دُھلنا اتنا ہی آسان ہے تو پھر اس قدر زور شریعت پر دینے بلکہ حق یہ ہے کہ شریعت نازل کرنے ہی کی ضرورت کیا ہو سکتی تھی۔قرآن کریم کا یہود کو کفارہ کا عقیدہ رکھنے پر انتباہ قرآن کریم یہود کے اس غلط خیال کی تردید فرماتا ہے اور یہود کو ہوشیار کرتا ہے اور اس دن سے ڈراتا ہے جبکہ وہ اﷲتعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔اور کوئی جان (قربانی کیا ہوا بکرا) کسی جان (یہودی) کی جگہ اس کے حضور میں قبول نہ کی جائے گی بلکہ اس دن اپنے نفس کی پاکیزگی ہی کام آ سکے گی۔جیسا کہ مَیں اوپر بتا آیا ہوں حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیم جو خطا کی قربانی کے بارہ میں ہے۔اس کے معنی صرف یہ تھے کہ بکرے کی قربانی سے نفس کی قربانی کی طرف توجّہ دلائی جائے اور بکرے کی قربانی صرف ایک تصویری زبان میں نصیحت تھی۔مگر یہود نے سہل انگاری سے کام لے کر اصل نصیحت کو نظر انداز کر دیا۔اور تمثیل کو اصل قرار دیکر نفس کی پاکیزگی کو پیچھے ڈال دیا۔اور بکرے کی قربانی کو اپنے لئے کافی سمجھا۔بنی اسرائیل پر کفاّرہ کے عقیدہ کا اثر اس قسم کے کفّارہ کا اثر بنی اسرائیل کی طبیعت پر ایسا گہرا تھا کہ جب بخت نصربادشاہِ بابل نے بیت المقدس کو مسمار کر دیا تو چونکہ قربانیاں اسی جگہ ہوتی تھیں ان کو یُوں معلوم ہوا کہ گویا آیندہ گناہ بخشوانے کا کوئی ذریعہ ہی ان کے پاس نہیں رہا اور بہت سے آدمی اس صدمہ کی وجہ سے تارک الدنیا ہو گئے (جوئش انسا ئیکلوپیڈیا زیر لفظ Atonementبحوالہ تو سفتا باب ۱۵۔آیت۲) اور ایک بڑے عالم جو شابن حنانیہ نے