تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 13
ہے۔کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے اچھی نسل چلتی ہے۔یہی طریق پھل دینے والے درختوں اور پھُول لانے والے پودوں میں اختیار کیا جاتا ہے اور یہی طریق اناج اور سبزی ترکاری پیدا کرنے میں اختیار کیا جاتا ہے پھر کس طرح ممکن ہے کہ اچھا اناج اچھے بیج سے اور اچھا پھل اچھے درخت کے پیوند سے اور اچھا جانور اچھے سانڈ سے پیدا ہولیکن انسانوں میں سے اچھے لوگوں کو تو بے نسل رکھا جائے اور ناقص انسانوں سے نسل لی جائے۔یہ ایسا غلط خیال ہے کہ کوئی معقول انسان اسے مان نہیں سکتا۔بعض قوموں میں خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنے اور اس کے غضب سے بچنے کے لئے اولاد کی قربانی دی جاتی تھی قریبًا دنیا کے ہر ملک میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں اس رسم کو دُور کرنے کے لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رؤیا میں اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کا ایمان دنیا پر ظاہر ہو جائے۔اور اس رسم کو بھی ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔بعض قوموں میں مجرموں یا اجنبیوں کو پکڑ کر قربانی میں پیش کیا جاتا تھا۔یہ سب غیر طبعی غیر حقیقی اور غیر معقول خیالات تھے جو ایک طرف خدا تعالیٰ کی صفات اور دوسری طرف انسانی فطرت کی پاکیزگی کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے رہے۔اگر یہ لوگ غور سے کام لیتے تو سمجھ جاتے کہ یہ طریق تکمیل کا نہیں ہے تکمیل کا طریق دائمی طور پر برُ ے جذبات سے چوکس رہنا اور ان سے بچنے کے لئے اپنے نفس سے برسرِ پیکار رہنا اور اس کے ساتھ متواتر اﷲ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھنا اور اس کی مدد حاصل کرتے رہنا ہے۔جہاں مذہب کے متعلق تفصیلی تعلیم نہ رکھنے والے گروہوں میں اوپر کے غلط خیال پھیلے ہوئے ہیں۔وہاں مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی ضمیر کو تسلّی دینے کے لئے اور تکمیل انسانی کی حقیقی جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان تین طریقوں کو ایجاد کر رکھا ہے جن کا ذکر اوپر کی آیت میں کیا گیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ جن قوموں میں کوئی مکمّل شریعت نہیں ان میں یہ خیالات نہیں پائے جاتے ان میں بھی ان خیالات کے پردے میں اپنے نفس کے خواطر کو چھپایا جاتا ہے مگر تفصیلی مذاہب کے پیروؤں میں ان امور کو زیادہ اہمیّت دی جاتی ہے اور دوسرے امور کو کم۔اس آیت میں اصل مخاطب بنی اسرائیل ہیں اور وہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس وقت دو حصوں میں تقسیم تھے (۱) یہود(۲)نصاریٰ۔ان دونوں قوموں میں حقیقی نیکی کے مٹ جانے پر تنزّل کے زمانہ میں یہ خیالات زور پکڑ گئے تھے وہ ہر وقت چوکس رہ کر اور رات دن اﷲ تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہ کر اس کو پانے کی بجائے یہ سمجھنے لگے تھے کہ اگر وہ شریعت اور آسمانی طریق کو نظر انداز بھی کردیں تو کوئی ہرج نہیں۔انھیں یا تو بزرگوں کے کفّارہ کے