تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 12
پائی جاتی ہے اور کہیں باہر سے نہیں آئی لیکن اس کے ساتھ ہی ہم دیکھتے ہیں کہ انسان سُستی غفلت یا سہل انگاری کی وجہ سے اس مقصد کو پانے کے لئے سہل راستے تلاش کرتا رہتا ہے فلسفیانہ رنگ کے لوگ اس خواہش کو اس طرح پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم کو چونکہ اس دنیا کے ماحول میں پیدا کیا ہے۔اس لئے وہ ہم سے صرف اس قدر امید کرتا ہے کہ ہم اچھے شہری ہو کر رہیں۔اگر ہم اس مقصد کو پورا کر دیں تو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر ذمّہ واریاں ہیں سب ادا ہو جاتی ہیں۔فلسفیوں کی طرف سے عارضی قربانیوں کے ذریعہ سے قَالُوْا بَلٰى کا جواب دینے کی کوشش جو فلسفی ہیں وہ مختلف قسم کی عارضی قربانیوں سے قَالُوْا بَلٰی کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں یہ قربانیاں بعض وقت ظاہر میں بڑی نظر آتی ہیں لیکن حقیقتاً اصل قربانی کا چھوٹا قائم مقام ہوتی ہیں۔مثلاً بعض لوگ بجائے مستقل نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے اور رات اور دن اپنے نفس کی اصلاح اور اپنی خواہشات کی قربانی کا کٹھن راستہ طے کرنے کے اپنے بعض اعضاء کاٹ دیتے ہیں اور اسے اس دائمی اور پوری قربانی کا قائم مقام سمجھ لیتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کے ذمّہ حقیقی پاکیزگی کے حصول کے لئے مقرر کی ہے بعض لوگ شہوانی جذبات کو دبانے کی طاقت نہ پا کر اس عضو کو جو اس کا ذریعہ ہے کاٹ دیتے ہیں بعض لوگ غیبت جھوٹ اوربدکلامی سے رُکنے کی ہمّت نہ دیکھ کر اپنی زبان کٹوا دیتے ہیں بعض دنیا میں رہتے ہوئے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طاقت نہ پا کر جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں اور کبھی ننگے رہ کر اپنے خیال میں آسائش کی قربانی کرتے ہیں اور کبھی سر کے َبل لٹک کر اپنی ذمّہ واری کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ( جیسا کہ ہندوؤں میں دیکھا جاتا ہے) لیکن یہ سب طریقے اپنے اصلی فرائض سے بھاگنے کے مترادف ہیں۔اس خیال کا بطلان کہ کامل لوگ تبتّل سے کام لیتے ہیں اگر اﷲ تعالیٰ انسان کی تکمیل کو ان چیزوں پر منحصر رکھتا تو اسے ایک متمّدن انسان پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اگر تبتّل یعنی نکاح سے بچنا نیکی کا اصل ذریعہ ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ دنیا کے کامل کرنے کا ذریعہ اسے فنا کرنا ہے جو کہ بالبداہت باطل ہے۔اگر تبتّل ہی انسانی زندگی کا کمال ہے تو سب انسانوں کو کامل ہونا چاہیے اور اگر سب انسان ہی تبتّل اختیار کر لیں تو ایک نسل میں ساری دنیا ختم ہو جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ تبتّل کمال کا ذریعہ نہیں بلکہ کامل لوگ تبتّل سے کام لیتے ہیں۔لیکن یہ خیال بھی بالبداہت باطل ہے کیونکہ اس کے معنے تو یہ ہیں کہ کاملوں کی نسل اس دنیا میں نہ چلے اور ناقصوں کی چلے۔حالانکہ جانوروں میں اچھے گھوڑے اچھے بیل اور اچھے بھینسے اور اچھے اونٹ اور اچھے بکرے سے نسل لی جاتی