تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 161

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا اور تم ان لوگوں (کے انجام) کو جنہوں نے تم (اہل کتاب )میں سے( ہوتے ہوئے )سبت کے معاملہ میں زیادتی لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕيْنَۚ۰۰۶۶ فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ کی تھی یقیناًجان چکے ہو اس پر ہم نے ان سے کہا کہ( جاؤ) ذلیل بندر ہو جاؤ۔پس ہم نے اس (واقع) کو ان يَدَيْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۠۰۰۶۷ (لوگوں)کے لئےبھی جو( وقوعہ کے وقت) موجود تھے اور اس (وقوعہ) کے بعد آنے والے لوگوں کے لئے (موجب) عبرت اور متقیوں کے لئے (موجب) نصیحت بنا دیا۔حَلّ لُغَات۔اِعْتَدَوْا۔اِعْتَدَیٰ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِعْتَدَیٰ کے معنے کے لئے دیکھو حلِّ لُغات سورۂ ھذا آیت نمبر ۶۲۔اَلسَّبْتُ۔سَبَتَ الرَّجُلُ ( یَسْبُتُ وَ یَسْبِتُ) سَبْتًاکے معنے ہیں۔اِستَرَاحَ آرام کیا اور سَبَتَ الشَّیْ ءَ کے معنے ہیں قَطَعَہٗ کسی چیز کو کاٹا۔سَبَتَ الرَّأْسَ۔حَلَقَہٗ سر کو مونڈا۔نیز سَبَتَ کے ایک معنی قَامَ بِاَمْرِالسَّبْتِ کے بھی ہیں۔یعنی سبت کا دن منایا (اقرب) نیز اَلسَّبْتُ کے معنی ہیں اَلدَّ ھْرُ زمانہ۔یَوْمٌ مِّنْ اَ یَّامِ الْاُسْبُوْعِ بَیْنَ الْجُمُعَۃِ وَ الْاَحَدِ ہفتہ کا دن (اقرب) سَبْت کو سَبْت اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اہل کتاب کام وغیرہ چھوڑ دیتے تھے۔خَاسِئِیْنَ۔خَاسِئٌ کی جمع ہے جو خَسَأَُٔ سے بنا ہے، کہتے ہیں خَسَأْتُ الْکَلْبَ فَخَسَأَ اَیْ زَجَرْتُہٗ مُسْتَھِیْنًابِہٖ فَانْزَجَرَکہ مَیں نے کتےکو اس کے ذلیل ہونے کی وجہ سے دھتکارا اور وہ دُور ہو گیا (تاج ) خَسَأَ الرَّجُلُ الْکَلْبَ اَیْ طَرَدَہٗ کتّے کو دھتکارا۔اَلْخَاسِیُٔ مِنَ الْکِلَابِ اَلْمُبْعَدُالْمَطْرُوْدُ لَایُتْرَکُ اَنْ یَدْنُوَمِنَ النَّاسِ یعنی جب خَاسِیٌٔ کا لفظ کسی کتّے کے متعلق استعمال کریں تو اس سے مراد ہوتی ہے کہ دُور کیا ہوا ،دھتکارا ہوا، جس کو لوگوں کے نزدیک نہ آنے دیا جائے۔(اقرب) نَکَالًا۔نَکَلَ بِفُـلَانٍ کے معنی ہیں صَنَعَ بِہٖ صَنِیْعًا یَحْذَرُغَیْرَہٗ اِذَارَءْاہُ کہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کیا