تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 160
خَسِرَ کے لفظ کے متعلق ہی اگر تفسیرو ںکا رُعب ماننے کی بجائے عربی کے قواعد پر نظر کی جائے تو اسے خلافِ محاورہ متعدّی بنانے کی ضرورت نہ تھی ہم اس کے معنے اس طرح کر سکتے ہیں کہ جس طرح سَفِہَ نَفْسَہُ کے کرتے ہیں یعنی حرفِ جار محذوف تصور کرتے ہیںاور جملہ کویوں تصوّر کرتے ہیں کہ سَفِہَ فِیْ نَفْسِہٖ یا تمیز خیال کرتے ہیں جو شاذو نادر کے طور پر معرفہ بھی آ جاتی ہے اسی طرح ہم خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ کے بھی یہ معنے کر سکتے ہیں کہ اپنے نفسوں کے بارہ میں گھاٹا میں پڑ گئے اور یہ معنے دوسرے معنوں سے زیادہ زور دار بھی ہو جاتے ہیں اور یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کا سب فریب خود اپنے ہی نفسوں کے خلاف پڑا ہے تمیز کی صورت میں بھی زور قائم رہتا ہے اور معنے اوپر والے ہی رہتے ہیں۔تفسیر۔خروج باب ۲۰ میں لکھا ہے:۔’’اور سب لوگوں نے دیکھا کہ بادل گرجے، بجلیاں چمکیں، قرنائی کی آوازہوئی، پہاڑ سے دھواں اُٹھا اور سب لوگوں نے جب یہ دیکھا تو ہٹے اور دُور جا کھڑے رہے تب انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سُنیں، لیکن خدا ہم سے نہ بولے کہیں ہم مر نہ جاویں۔(خروج باب۲۰آیت ۱۸،۱۹) اسی طرح استثنا باب ۵ میں لکھا ہے :۔’’ خداوند نے تمہارے ساتھ روبرو پہاڑ کے اوپر آگ میں سے کلام کیا۔اس وقت مَیں نے تمہارے اور خداوند کے درمیان کھڑے ہو کے خداوند کا کلام تم پر ظاہر کیا کیونکہ تم آگ کے سبب ڈر گئے تھے اور پہاڑ پر نہ چڑھے۔‘‘ ( استثناباب ۵ آیت ۴۔۵) ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے کلام سے بالمشافہ مشرف کرنے کے لئے بُلایا تو وہ زلزلہ کو دیکھ کر ڈر کے پیچھے ہٹ گئے۔پس تَوَلَّيْتُمْکے معنے اِس جگہ پر ظاہر میں ہٹنے کے ہیں۔وہ لوگ بھاگ کر پیچھے چلے گئے اور خدا تعالیٰ کا کلام سُننے سے انکار کر دیا۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اگر اﷲ تعالیٰ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو اُس وقت تمہارا نام نبی کی امت میں سے کاٹ دیا جاتا اور تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاتے مگر اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت تم کو کوئی سزا نہ دی۔لیکن جیسا کہ استثنا باب۱۸ آیت ۱۸،۱۹ سے ثابت ہے ان کے کلام الٰہی سُننے سے انکار کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ موسیٰ ؑکی مانند جو آیندہ نبی ہو گا وہ ان میں سے نہیں ہو گا۔بلکہ وہ ان کے بھائیوں یعنی بنو اسماعیل میں سے ہو گا۔