تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 162

کہ دوسرا اس کو دیکھ کر ہوشیار ہو جائے۔وَالنَّکَالُ اِسْمُ مَا یُجْعَلُ عِبْرَۃً لِلْغَیْرِ۔ہر اس چیز کا نام نکال رکھیں گے جو کسی کے لئے عبرت کا موجب بن جائے۔(اقرب) مَوْعِظَۃً۔اَلْمَوْعِظَۃُ (نصیحت) وَعَظَ کا اسم مصدر ہے۔کہتے ہیں وَعَظَہٗ: نَصَحَہٗ وَذَکَّرَہٗ مَایُلَیِّنُ الْقُلُوْبَ مِنَ الثَّوَابِ وَ الْعِقَابِ یعنی اس کو ایسی نصیحت کی جو دل کو نرم کر دے کہیں سزا کی باتیں بتا بتا کر اور کہیں کامیابی کے راستے بتا بتا کر۔وَ فِی الْمِصْبَاحِ مَایَسُوْقُہٗ اِلَی التَّوْبَۃِ اِلَیﷲِ وَاِصْلَاحِ السِّیْرَۃِ وَ اَمْرِہٖ بِالطَّاعَۃِ اور مصباح کے مصنّف نے وَعَظَ کے یہ معنی لکھے ہیں کہ ایسی باتیں کسی کو سُنانا جو اس کو اﷲ کی طرف رجوع کروانے اور عادات و اطوار کو درست بنانے اور خدا کے احکام کی فرمانبرداری کروانے کا موجب ہوں(اقرب) خلیل نحوی ادیب نے وَعْظٌ کے معنی ھُوَ التَّذْکِیْرُ بِالْخَیْرِ فِیْمَـا یَرِقُّ لَہُ الْقَلْبُ کے کئے ہیں یعنی وعظ ایسی باتوں کے یاد دلانے کو کہتے ہیں جن کے سُننے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے (مفردات) اَلْمَوْعِظَۃُ: کَلَامُ الْوَاعِظِ مِنَ النُّصْحِ وَالْحَثِّ وَالْاِنْذَارِ یعنی اَلْمَوْعِظَۃُ اس کلام کو کہتے ہیں جو نہایت اخلاص پر مبنی ہو اور نیک باتوں کی طرف ترغیب دے اور بُری باتوں سے ڈرائے۔(اقرب) اَلْمُتَّقِیْنَ۔اَلْمُتَّقِیْنَ اور اَلْمُتَّقُوْنَ یَتَّقِیْ سے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اَلْمُتَّقِیْنَ۔متقی کی جمع ہے جو اِتَّقٰی کا اسم فاعل ہے۔اِتِّقَاءٌ وَقٰی سے بابِ اِفْتِعال کا فعل ماضی ہے وَقٰـی کے معنے ہیں بچایا، حفاظت کی۔اور اِ تَّقـٰی کے معنے ہیں۔بچا۔اپنی حفاظت کی (اقرب) مگر اس لفظ کا استعمال دینی کتب کے محاورہ میں معصیت اور بُری اشیاء سے بچنے کے ہیں اور خالی ڈر کے معنو ںمیں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔وَقَایَۃٌ کے معنی ڈھال یا اس ذریعہ کے ہیں جس سے انسان پنے بچائو کا سامان کرتا ہے بعض نے کہا ہے کہ اتقاء جب اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو انہی معنوں میں آتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنی نجات کے لئے بطور ڈھال بنا لیا۔قرآن کریم میں تقویٰ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بارہ میں حضرت ابوہریرہؓ سے کسی نے پوچھا تو انہوںنے جواب دیا کہ کانٹوں والی جگہ پر سے گزرو تو کیا کرتے ہو ،اس نے کہا یا اس سے پہلو بچا کر چلا جاتا ہوں یا اس سے پیچھے رہ جاتا ہوں یا آگے نکل جاتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بس اسی کا نام تقویٰ ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مقام پر کھڑا نہ ہو اور ہر طرح اس جگہ سے بچنے کی کوشش کرے ایک شاعر (ابن المعتز) نے ان معنوں کو لطیف اشعار میں نظم کر دیا ہے وہ کہتے ہیں۔؎ خَلِّ الذُّنُوْبَ صَغِیْرَھَاوَ کَبِیْرَھَا ذَاکَ التُّقٰی