تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 159

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ پھر اس (واضح ہدایت) کے (مل جانے کے) بعد( بھی) تم نے پیٹھ پھیر لی اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۰۰۶۵ نہ ہوتی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میںسے ہو جاتے۔حَلّ لُغَات۔تَوَلَّیْتُمْ۔تَولّٰی سے جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور تَوَلّٰی کے معنے ہیں۔اَدْبَرَ پیٹھ پھیرلی تَوَلّٰی عَنْہُ۔اَعْرَضَ وَ تَرَکَہٗ یعنی اس سے اعراض کیا اور اس کو چھوڑ دیا (اقرب ) پس تَوَلَّیْتُمْکے معنے ہوں گے۔(۱) تم پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔(۲) تم نے اعراض کیا۔تم نے اس کو چھوڑ دیا۔فَضْلٌ۔اَ لْاِحْسَانُ۔فضل کے معنے احسان کے ہیں۔وَالْاِ بْتِدَاءُ بِہٖ بِلَاعِلَّۃٍ کسی پر اس کے کام کے بغیر ابتداًء احسان کرنا فضل کہلاتا ہے۔(اقرب ) اَلْخٰسِرِیْنَ۔اَلْخٰسِرِیْن اور اَلْخَاسِرُوْنَ اَلْخَاسِرُ کی جمع ہے جس کے معنے نقصان اُٹھانے والے اور گھاٹا پانے والے کے ہیں۔خَسِرَ التَّاجِرُ فِی بَیْعِہٖ (یَخْسِرُ) کے معنے ہیں وُضِعَ فِیْ تِجَارَتِہٖ تاجر کو تجارت میں گھاٹا ہوا ضِدُّرَبِحَ خَسِرَ کا لفظ نفع کے مخالف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔خَسِرَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں ضَلَّ وَھَلَکَ گمراہ ہو گیا اور ہلاک ہو گیا (اقرب)۔عربی زبان میں یہ لفظ ہمیشہ لازم ہی استعمال ہوتا ہے میں نے بڑی تحقیق کی ہے مگر مجھے نہیں ملا کہ یہ لفظ عربی کے استعمال میں کہیں بھی متعدّی استعمال ہواہو مگر عجیب بات ہے کہ تمام کے تمام مفسرین خَسِرُوْا کے معنے اَھْلَکُوْا کرتے ہیں لیکن تاج العروس والا کہتا ہے وَلَا یُسْتَعْمَلُ ھٰذَا الْبَابُ اِلَّا لَازِمًا کَمَا صَرَّحَ بِہٖ اَئِمَّۃُ التَّصْرِیْفِ کہ سارے اہلِ تصریف اس کو لازم ہی قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ قرآن کریم میں متعدی استعمال ہوا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لازم ہی ہے اور افسوس یہ ہے کہ ہماری لغتیں مذہبی اثر کے نیچے ہیں اور تفسیروں کے ماتحت لغت کو بھی کر دیا ہے جس سے اسلام کو فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان پہنچا ہے اور کئی معارف قرآنیہ اس تصرف کی وجہ سے لوگوں کی نظر سے مخفی ہو گئے ہیں کاش کوئی شخص ہمت کر کے ایسی لغت تیار کرے جو تفسیروں کے اثر سے بالکل آزاد ہوتا کہ لوگ اس ناجائز دبائو سے بالکل آزاد ہو جائیں اور قرآن مجید کے سمجھنے میں لوگوں کو سہولت حاصل ہو جائے۔