تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 11

ہیں جو ان کے گناہوں سے بہر حال زیادہ رہیں گی اور گناہوں کا بدلہ دے کر بھی وہ جنّت کے مستحق رہیں گے۔اس آیت میں ان خیالات کا ردّ کیا گیا ہے تا بنی اسرائیل کو نیکی کا اصل مفہوم معلوم ہو۔اور وہ صداقتوں کا انکار کر کے تباہ نہ ہو جائیں۔انسانی فطرت میں اعلیٰ روحانی مقام کے حاصل کرنے کا احساس اور اس کا قرآن کریم میں ذکر اس آیت کا مضمون سمجھنے کے لئے اس امر کو سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ امر مرکوز ہے کہ وہ اعلیٰ رُوحانی مقام کو حاصل کرے متمدّن اقوام ہوں کہ غیر متمدن قبائل سب میں یہ احساسِ کمال کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔افریقہ کے حبشی ہوں یا مکسیکو کے قدیم باشندے یا آسٹریلیا کے ابتدائی نسلوں کے آدمی۔سب اس خواہش سے متاثر نظر آتے ہیں بعض میں یہ احساس معیّن صورت میں پایا جاتا ہے اور بعض میں مبہم صورت میں مگر پایا سب میں جاتا ہے قرآن کریم نے اس احساس کو نہایت لطیف پیرایہ میں بیان فرمایا ہے فرماتا ہے۔وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ۔اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (الاعراف :۱۷۳،۱۷۴) اور یاد کر جبکہ تیرے رب نے تمام انسانوں کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو لیا اور انھیں اپنی جانوں پر گواہ بنایا۔اور فرمایا کہ کیا مَیں تمہارا رب نہیں سب نے کہا کہ ہاں تو ہمارا ربّ ہے۔اے لوگو ! یہ ہم نے اس لئے کیا تا تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم تو اس امر سے غافل تھے۔یا یہ نہ کہو کہ ہمارے باپ دادوں نے شرک کیا تھا اور ہم اُن کے بعد آنے والی نسل تھے۔اس لئے لازماً ہم ان کے خیالات سے متاثر ہوئے پھر کیا تو ہم کو اُن جھوٹ بولنے والوں کے جُرم کے بدلہ میں سزا دے گا۔ہر انسان توحید کا اثر فطرتاً لے کر پیدا ہوتا ہے شرک کا رنگ اس کے ماںباپ اس پر چڑھاتے ہیں اس آیت میں نہایت لطیف استعارہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے آباء کی پیٹھوں سے ہی یعنی پیدائشی طور پر توحید کا اثر لے کر نکلتا ہے اور شرک کا رنگ بعد میں اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے ماںباپ اس پر چڑھاتے ہیں۔اگر توحید کا اثر خدا تعالیٰ نے فطرت انسانی پر نہ ڈالا ہوتا تو انسان شرک کرنے میں معذور ہوتا لیکن اس نے توحید کا اقرار پیدائشی طور پر اس کے اندر رکھ کر ہر انسان پر حجت کر دی ہے اب نہ تو وہ ناواقفی کا عذر کرسکتا ہے اور نہ اپنے ماں باپ کے اثر کاعذر پیش کر سکتا ہے۔اس فطری اثر کو ہم ہر قوم اور ہر قبیلہ میں محسوس کرتے ہیں ہمیشہ سےانسان اپنے پیدا کرنے والے خدا کا قُرب حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتا آیا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ لگن فطرت میں