تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 144
استعمال کیا تھا لیکن عربوں کے نزدیک اس کے معنے ہر ایسی قوم کے تھے جو اہلِ کتا ب ہو اور یہودیوں اور نصاریٰ کے علاوہ ہو چنانچہ جب اسلام نیا نیا نکلا تو جب تک عرب کے لوگ اسلام کے نام اور اسلام کے مذہب سے مانوس نہیں ہوئے مسلمانوں کو بھی وہ صابی کہا کرتے تھے۔جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھا تو کہتے صَبَأَ فُـلَانٌ فلاں شخص صابی ہو گیا۔میرے نزدیک کوئی حرج نہیں کہ ہم قرآنِ شریف میں بھی اس لفظ کے یہی معنی سمجھیں یعنی قرآنِ شریف نے بھی عربی محاورہ کے مطابق صابی سے مراد اہلِ کتاب کے لئے ہوں اور اس آیت سے مراد یہ ہو کہ یہودی ہو یا نصرانی ہو یا اور کسی الہامی کتاب کی طرف منسوب ہونے والا ہو ہر ایک قوم کے متعلق اﷲ تعالیٰ کا یہ قاعدہ رہا ہے کہ اگر وہ اﷲ اور یوم آخر پر سچا ایمان لائیں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے تو وہ کبھی تباہ نہیں ہوں گے۔آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا۔۔۔الخ کا گزشتہ آیات سے تعلق جیسا کہ اوپر کی آیات کی تفسیر سے ظاہر ہے چوتھے رکوع سے یہ مضمون پیش کیا جا رہا ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی نبوّت نئی نہیں بلکہ نبوّت کا سلسلہ قدیم سے چلا آیا ہے چنانچہ پہلا انسان کامل بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی بنا کر مبعوث کیا گیا تھا۔اور پھر پانچویں رکوع سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ آدم پر ہی ختم نہیں ہو گیا بلکہ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہ ٖوسلم کے قریب ترین زمانہ تک اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نبی آتے رہے ہیں چنانچہ عرب کے جوار میں رہنے والی اسرائیلی قوم میں ایک لمبا سلسلہ انبیاء کا چلا جس کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پڑی۔اسی ضمن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے یہ خبر دی گئی تھی کہ ان کے دونوں لڑکوں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے ذریعہ سے روحانیت کے عظیم الشاّن سلسلے چلیں گے۔پس جبکہ نبوّت کا سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے شروع کیا گیا اور جاری رکھا گیا اور سابق انبیاء کی پیشگوئیوں نے بنو اسمٰعیل میں آنے والے ایک عظیم الشاّن نبی کی خبر دے رکھی ہے تو پھر ایک مدعیٔ نبوّت کے دعوے پر استعجاب کیوں ہو۔دوسرا مضمون چوتھے رکوع سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نبی کے زمانہ میں اُس کی مخالفت کی گئی۔آدم علیہ السلام پر بھی اعتراض ہوئے چنانچہ شیطان اور اُس کی ذرّیت نے خوب بڑھ بڑھ کر اعتراض کئے۔فرشتوں نے گو اعتراض نہیں کیا مگر اُس کی پیدائش پر تعجب اور حیرت کا اظہار ضرور کیا۔پھر اس کے بعد نبی پر نبی آیا اور یہ سبق دُہرایا گیا مگر اسلام کے قریب ترین رُوحانی سلسلہ کے نبیوں پر پھر اسی طرح اعتراضات ہوئے جیسے پہلے نبیوں پر اعتراضات ہوئے تھے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ان اعتراضوں سے نہ بچے۔پھر محمدرسول اﷲ صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا انکار محض اس وجہ سے کہ اُن کی بعض باتوں پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کیونکر درست ہو سکتا ہے۔