تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 143
زمانہ کے صوفی یا ولی کا ہو گا یا کسی اعتراض سے بچنے کے لئے انجیل نویسوں نے اس قسم کی تعبیر نصرانی کے لفظ کی کر لی۔وَﷲ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔اَلصَّابِئِیْنَ۔صابی قوم کون تھی؟ صابی قوم اس وقت مفقود ہے گو بعض قومیں عراق میں ایسی پائی جاتی ہیں جن کے متعلق شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ صابی الاصل ہیں۔گزشتہ زمانہ میں عیسائیوں کا ایک فرقہ جو علاقہ بابل میں رہتا تھا صابی کہلاتا تھا اور اُن کو الکزائٹس (Elkesaitas) بھی کہتے تھے۔وہ مذہباً یوحنّا بپتسمہ دینے والے کے متّبعین کے ساتھ زیادہ ملتے تھے (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Sabians) اسی طرح صابی بعض ستارہ پرست اقوام کو بھی کہتے ہیں جو عراق، عرب وغیرہ میں کسی وقت پائی جاتی تھیں اور حران اُن کا صدر مقام تھا ( انسا ئیکلو پیڈیا برٹینیکازیر لفظ Sabians ) درحقیقت یہ لوگ سباء کے رہنے والے تھے لیکن آہستہ آہستہ اُن کا نام صابی بجائے ’س‘ کے’ص‘ سے استعمال ہونے لگ گیا۔یہ لوگ ستارہ پرست تھے اور ایک الہامی قانون کے ماننے والے تھے۔تاریخ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ لوگ اپنے آپ کو صابی کہتے تھے یا لوگوں نے ان کا نام صابی رکھ دیا تھا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ مامون کے وقت میں بھی اس قبیلہ کے کچھ لوگ ابھی موجود تھے۔کیونکہ تاریخوں میں لکھا ہے کہ مامون نے رومی حکومت پر حملہ کرتے وقت اپنے رستہ میں اُن لوگوں کو دیکھا۔اُن کے لمبے لمبے بالوں اور عجیب قسم کے لباس اور غیر معروف مذہبی رسوم کو دیکھ کر اُس نے حکم دیا کہ یا تو تم اپنے آپ کو کسی اہلِ کتاب مذہب سے وابستہ کر لو ورنہ میں تم کو قتل کر دُوںگا۔انہوں نے مسلمان فقہا سے مشور ہ کیا اور ان کے مشورہ کے مطابق اپنا نام صابی رکھ لیا ( انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Sabians) میرے نزدیک یہ بات کہ انہوں نے بعد میں اپنا نام صابی رکھا غلط ہے۔ممکن ہے کہ کوئی اُن کا چھوٹا سا قبیلہ الگ پڑا ہو اور وہ اپنا نام بھی بھُول گئے ہوں پھر انہوں نے مسلمان علماء کے مشورہ سے اپنا نام صابی بتایا ہو۔کیونکہ اسلامی تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ حرّان کے لوگوں کا تعلق مامون کے زمانہ سے بہت پہلے اسلامی حکومت سے قائم ہو چکا تھا۔صابی کے معنے اہل کتاب کے یہ کہ قرآن شریف میں صابی کے لفظ سے کون صابی مراد ہیں تعیین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا لیکن میرے نزدیک چونکہ صابی کا نام کئی اہلِ کتاب قومیں اپنی طرف منسوب کرتی تھیں عربی زبان میں صابی کے معنے اہل کتاب کے ہو گئے۔یہود اور نصاریٰ کو تو وہ جانتے تھے اس لئے اُنہیں تو وہ خاص نام سے یاد کر لیتے تھے۔ان کے سوا باقی تمام قومیں جنکی نسبت عرب سمجھتے تھے کہ یہ الہامی کتاب کے قائل ہیں انہیں وہ صابی کے نام سے یاد کر لیتے تھے پس گوصابی کا نام کسی وجہ سے کسی ایک نے یا دوسری وجہ سے بعض اور قبائل نے اپنے لئے