تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 145
تیسرا سلسلۂ مضمون ان رکوعوں میں یہ جاری ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی قوم کو چنتا ہے تو اپنے فضل کو کمال تک پہنچا دیتا ہے لیکن جب وہ قوم ناشکری میں بڑھ جاتی ہے تو وہ فضل کسی دوسری قوم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔آدم ؑکی وسیع اولاد میں سے منتقل ہوتے ہوتے فضل الٰہی بنی اسرائیل میں آیا۔اب بنی اسرائیل کی متواتر اور ایک لمبے عرصہ تک کی مسلسل ناپسندیدہ حرکات کی وجہ سے وہ فضل ایک دوسرے خاندان کی طرف منتقل ہوا ہے۔بنی اسرائیل کو اب غصّہ کیوں آتا ہے اور مکّہ کے لوگ ناراض کیوں ہیں۔نہ بنی اسرائیل کی خفگی کی کوئی وجہ ہے کہ انہوں نے خود دھکے دے دے کر خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنے گھر سے نکالا اور نہ مکّہ والوں کے لئے شور مچانے کی کوئی وجہ ہے کہ اُن کے تاریک گھروں میں خدا تعالیٰ کے نور کا دیا جلایا جا رہا ہے۔اُن کے افسردہ دلوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت کی بارش نازل کی جا رہی ہے۔اُن کے لئے تو خوش ہونے کا مقام ہے نہ کہ رنجیدہ ہونے کا۔یہ تین سلسلۂ مضامین چوتھے رکوع سے شروع ہو کر اس جگہ تک آ رہے ہیں اور کچھ دُور تک آگے بھی جائیں گے چنانچہ اِس آیت سے اگلی آیت میں پھر وہی مضمون جاری ہوجائے گا لیکن اِس سلسلہ مضمون میں یہ آیت جس پر نوٹ لکھا جا رہا ہے بظاہر بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے۔کہاں یہودیوں کا ذکر اور وہ بھی پرانے زمانے کے یہودیوں کا۔پھر اس آیت کے بعد بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا ہی ذکر ہے درمیان میں یہ آیت کیسی آ گئی کہ جس میں مسلمانوں یا عام مومنوں کا بھی اور نصاریٰ کا بھی اور صابئین کا بھی ذکر ہے۔اِس کا جواب یہ ہے کہ پہلی آیت میں یہود کے اوپر مستقل طور پر غضب الٰہی نازل ہونے کا ذکر تھا اور پھر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ انبیاء کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔یہ ایک ایسا دل دہلا دینے والا مضمون ہے کہ انسانی فطرت اس جگہ پر اپنی مشکلات کا حل کر دیئے بغیر آگے جانے دینا پسند نہیں کرتی۔جس وقت انسان اِس مضمون کو پڑھتا ہے کہ ایک قوم پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوا اور فضل پر فضل نازل ہوا مگر اس نے نافرمانی پر نافرمانی کی اور نبیوں کا مقابلہ کیا تو اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسا ذریعہ ہے جس کی مدد سے اس خطرناک حالت سے مَیں بچ سکتا ہوں۔اس فطری سوال کا جو ضمنی طور پر اِس دل دہلا دینے والے مضمون کے موقع پر انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے اس آیت میں جواب دے دیا گیا ہے۔فرماتا ہے۔یقیناً وہ لوگ جو ایمان کے مدعی ہیں خواہ وہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور وہ جو یہودی ہیں یا نصرانی ہیں یا صابی ہیں جو بھی اﷲ پر اور یوم آخر پر ایمان لائیں اور مناسب حال عمل کریں ان کو ان کے رب کی طرف سے اجر ملتا ہے یعنی جو چیز انسان کے امن کو دوام بخشتی ہے وہ اﷲ تعالیٰ اور یومِ آخر پر ایمان اور عمل صالح ہے۔یہ مت سمجھو کہ باوجود ایمان کے انسان ٹھوکریں کھاتا ہے۔جب حقیقی ایمان نصیب ہو تو اس وقت انسان ٹھوکریں نہیں کھاتا۔بنی اسرائیل