تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 142

قرآن مجید کا بنی اسرائیل اور یہود ہر دو الفاظ کو مختلف مفہوموں میں استعمال کرنا اور اہل یورپ کا غلط اعتراض تعجب ہے کہ قرآن کریم جہاں کہیں مذہب کی طرف اشارہ کرتا ہے وہاں یہودی لفظ کا استعمال کرتا ہے اور جہاں قوم کی طرف اشارہ کرتا ہے وہاں بنو اسرائیل کا لفظ استعمال کرتا ہے اور قرآن کریم پر عیسائی مصنّف یہ الزام دھرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی تاریخ سے واقف نہیں۔حالانکہ قرآن کریم نے اسرائیل اور یہود کے لفظ کا بالکل صحیح استعمال کیا ہے جبکہ خود انجیل میں اِس لفظ کا غلط استعمال ہوا ہے اور اس کے معنے اسرائیلی نسل کے آدمیوں کے لئے گئے ہیں اور آج بھی یورپ کے لوگ اس لفظ کو غلط استعمال کرتے رہتے ہیں ( اس کے لئے دیکھو نوٹ ۴۱ سورۂ بقرہ زیر آیت يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ الخ) مسیحیوں کا نام نصاریٰ رکھے جانے کی وجہ نَصَارٰی۔نَصْرَانِیٌّ کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں نَاصِرَہ سے تعلق رکھنے والے یہود اور ممالک عربیہ کے لوگ اس نام سے مسیحیوں کو یاد کرتے تھے۔نَاصِرَہ جس سے یہ لفظ نکلا ہے جلیل کا ایک گاؤں تھا اور پُرانے زمانہ میں’مسیح کے اپنے ملک‘ کے نام سے مشہور تھا کیونکہ یوحنّا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینے سے پہلے حضرت مسیح اپنے خاندان سمیت وہیں رہا کرتے تھے۔( دیکھو متی باب۴ آیت ۱۳۔مرقس باب ۱ آیت ۹۔لوقاباب ۱ آیت ۲۶۔یوحنّا باب ۱ آیت ۴۶۔اعمال باب ۱۰ آیت ۳۸) اسی گاؤں کے نام کی وجہ سے ابتدائی یہودی مذہبی کتب میں حضرت مسیحؑ کے ماننے والوں کو نصرانی لکھا جاتا تھا ان سے عربوں نے اس کو اخذ کیا اور آج تک ان میں یہی نام مشہور ہے۔مسیح محمدی کے اتباع کی مسیح ناصری کے اتباع سے ایک مشابہت ( خدا کی قدرت ہے کہ اس زمانہ میں امّتِ محمدیہ کے مسیح موعودؑ کے اَتباع کو بھی ان کے مخالف قادیانی کہتے ہیں یعنی امام کی جائے قیام کی طرف انہیں منسوب کرتے ہیں۔یہ مشابہت بھی نہایت عجیب ہے) رومی لوگ بھی ابتدائی زمانہ سے مسیحی لوگوں کو نصرانی کہنے لگے تھے ( دیکھو اعمال باب ۲۴ آیت ۵) لیکن باوجود اس کے یہ عجیب بات ہے کہ ناصرہ جس کے نام پر مسیح علیہ السلام کے اَتباع نے نام پایا ایک لمبے عرصہ تک اس میں یہودی ہی بستے تھے۔مسیحی صدیوں سال بعد جا کر اس میں بسے (انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Nazarath) متی کی انجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے مجازی والد یوسف نجّار اس جگہ ایک خواب کی بناء پر جا کر رہتے تھے۔لکھا ہے ’’ اور خواب میں آگاہی پا کر جلیل کی اطراف میں روانہ ہوا اور ایک شہر میں جس کا نام ناصرت تھا جا کے رہا کہ وہ جو نبیوں نے کہا تھا پورا ہو کہ وہ ناصری کہلائے گا (متی ب ۲ آیت ۲۲،۲۳)لیکن یہ عجیب بات ہے کہ بائبل میں کہیں بھی اس پیشگوئی کا ذکر نہیں۔سو یا تو یہ الہام کسی قریب کے