تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 141

ہونے کو کہتے ہیں گو حلِّ لُغات میں ھَادَکے اور معنے بھی بتائے جا چکے ہیں لیکن یہ توارد ہے کہ عبرانی کا ایک لفظ عربی کے ایک لفظ کے مشابہ ہو گیا ہے ان معنوں کو دیکھتے ہوئے یہ خیال نہیں کر لینا چاہیے کہ یہودی کو اس لئے یہودی کہتے ہیں کہ اس میں ھَادَ والے معنے پائے جاتے ہیں بلکہ عربی ھَادَ اور ہے اور یہ ھَادَ یَھُوْدُ جو یہودی قوم کے نام کو بتانے کے لئے ہے اور ہے۔یہ لفظ درحقیقت اُس نام کا معرب ہے جو بنی اسرائیل کے لئے ہجرت بابل کے بعد خود یہود میں اور اِرد گرد کے لوگوں میں رائج ہو گیا تھا چنانچہ عبرانی میں اسے ’’ یَیْہُوْدی‘‘ کہتے ہیں اور ارمی زبان میں ’’یہودائی‘‘کہتے ہیں اور پُرانی بابلی زبان میں اسے’ ’یا اُودائی‘‘ کہتے ہیں اور یہ لفظ ’’یَہُوْدَا‘‘ سے بنا ہے جو اُس علاقہ کا نام جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی نسل اور قبیلے کے لوگ حکومت کرتے رہے ہیں اور جس کا دارالخلافہ یروشلم تھا( انسائیکلوپیڈیا ببلیکا وجوئش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ JEW) درحقیقت اس علاقہ میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یہودا کی نسل کا زور تھا جس کا عبرانی تلفظ ییہودا ہے اس لئے اُس علاقہ کا نام ہی ’’ییہودا‘‘ ہو گیا اور پھر اس علاقہ میں رہنے والوں کو’یہودی‘ نام مِل گیا۔چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں بغاوت ہو گئی تھی اس لئے بنو یہود ا اور بنو بن یا مین حضرت یعقوب علیہ السلام کے دو بیٹوں کی اولاد تو اس علاقہ میں رہ گئی اور باقی دس قبائل نے شمال میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی اور اُن لوگوں کے مذہب میں کچھ خرابیاں واقع ہو گئیں۔نبیوں کی بعثت بھی زیادہ تر اسی علاقہ میں ہوتی رہی جس میں بنو یہودا رہتے تھے۔پس آہستہ آہستہ بنی اسرائیل کے دو فرقوں میں امتیاز کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ یروشلم کے علاقہ کے باشندوں کا مذہب صحیح ہے اور دوسروں کا غلط۔یہودی کا لفظ ایک نئی اصطلاح بن گیا اور اس کے یہ معنی کئے جانے لگے کہ وہ جو موسوی شریعت کا سچا پابند ہے۔اس یہودی کے لفظ کو عربوں نے اپنی زبان میں استعمال کیا اور چونکہ یہود کا لفظ عربی کے مضارع کے صیغہ سے مشابہ تھا انہوں نے اس سے ماضی کا صیغہ ھَادَ بنا لیا۔مگر ایک مستقل لفظ ھَادَ بھی عربی میں ہے وہ لفظ یہودیوں یا ان کے قبیلوں کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اس کے معنے بالکل اور ہیں جیسا کہ حلِّ لُغات میں بتائے جا چکے ہیں۔پس ان معنوں کے رُو سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ ھَادَ کا جو لفظ ہے یہ عربی ہے بلکہ ھَادَ کا لفظ یہودی لفظ سے ماضی کا صیغہ بنایا گیا ہے اور یہودی کا لفظ یہود اسے بنا ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں’ ’ یہودا‘‘ کے علاقہ میں رہنے والا اور اس کے اصطلاحی معنے ہیںموسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا متّبع۔