تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 92

کہ اس عرصہ کے اختتام پر وہ واقعات شروع ہوئے۔اسلام کے بعض واقعات کی طرف مقطعات میں اشارہ اگر اس خیال کو درست سمجھا جائے تو یہ بات تو واضح ہے کہ سورۂ بقرہ کے واقعات بعثت کے بعد کے اکہتر سال کے واقعات کا مختصر خاکہ ہیں حضرت معاویہ ۶۰ھ میں فوت ہوئے ہیں اس میں تیرہ سال قبل ہجرت کے شامل کئے جائیں تو یہ ۷۳ھ ہوتا ہے۔یزید کی بیعت حضرت معاویہ نے وفات سے ایک دو سال پہلے لی ہے چونکہ اسی وقت سے اصل فتنہ شروع ہوا ہے اس لئے ابتدائے اسلام اور ترقی اسلام کا زمانہ اکہتر سال ہوتا ہے اور اسی زمانہ کا نقشہ سورۂ بقرہ میں کھینچا گیا ہے۔دوسری سورۃ مریم ہے اس سے پہلے کٓھٰیٰعٓصٓکے الفاظ ہیں جن کی مجموعی رقم ۱۹۵ ہوتی ہے سورۂ مریم میں مسیحیت کی ترقی کا ذکر ہے اور خصوصاً دوسری ترقی کا جو اسلامی ترقی کے بعد ہوئی تھی۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال سے مسیحیت نے دوبارہ سر نکالا ہے۔یہی سال ہے جس میں اسلامی تاریخ میں پہلی دفعہ کوشش کی گئی کہ جس وقت معتصم باللہ مسیحی رومی حکومت کے خلاف لڑ رہا تھا اُسے معزول کر کے عباس بن مامون کو خلیفہ مقرر کر دیا جائے اور اس طرح مسیحیوں کے مقابل پر اسلام کو ضعف پہنچایا جائے اسی زمانہ کے قریب مسیحیوں نے دوبارہ سپین پر حملہ کر کے اس کے کچھ حصے واپس لے لیے اور اسی زمانہ کے قریب یہ بدبختی کا واقعہ دیکھنے میں آیا کہ خلافت ِاندلس نے خلافتِ عباسیہ کے خلاف روما کے عیسائی بادشاہ سے خفیہ معاہدہ کیا اور عباسی حکومت نے شاہ ِفرانس سے سپین کی اسلامی حکومت کے خلاف دوستانہ تعلقات قائم کئے اور اس طرح اسلامی سیاست میں مسیحیوں کو داخل کر کے مسیحیت کی ترقی اور اسلام کے تنزّل کی داغ بیل ڈالی۔میری رائے میں اگر دوسری سورتوں پر بھی غور کیا جائے تو زمانہ کے لحاظ سے کافی روشنی ان مضامین پر پڑے گی۔اب مَیں حروفِ مقطعات کے بارہ میں وہ تحقیق لکھتا ہوں جس کی بنیاد حضرت ابن عباسؓ اور حضرت علیؓ کے کئے ہوئے معنوں پر ہے اور وہ تحقیق یہ ہے۔حروف مقطعات اپنے اندر بہت سے راز رکھتے ہیں ان میں سے بعض راز بعض ایسے افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کا قرآن کریم سے ایسا گہرا تعلق ہے کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں ہونا چاہیے لیکن اس کے علاوہ یہ الفاظ قرآن کریم کے بعض مضامین کے لئے قفل کا بھی کام دیتے ہیں کوئی پہلے ان کو کھولے تب ان مضامین تک پہنچ سکتاہے جس حد تک ان کے معنوں کو سمجھتا جائے اسی حد تک قرآن کریم کا مطلب کھلتا جائے گا۔مقطعات میں تبدیلی کیوں ہوتی ہے؟ میری تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب حروفِ مقطعات بدلتے ہیں تو