تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 91
جبریل نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں حُیـیّ نے کہا کہ آپؐ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں ہمیں معلوم نہیں کہ سوائے آپؐ کے ان میں سے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکومت کی مدت اور اس کی قوم کا عرصہ بیان کیا ہو۔پھر اُس نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کیا اور کہا الف کا ایک لام کے تیس اور میم کے چالیس یعنی کل اکہتر سال ہوئے۔کیا تم ایسے نبی کے دین کو قبول کرو گے جس کی حکومت کا عرصہ اور جس کی امت کا زمانہ کل اکہتر سال ہے؟ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مخاطب ہوا اور پوچھا کہ اے محمد! (صلے اللہ علیہ وسلم) کیا ان کے علاوہ اور حرف بھی آپؐ پر نازل ہوئے ہیں آپؐ نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کیا۔آپؐ نے فرمایا اَلٓمّٓصٓ۔اس نے کہا یہ زیادہ گراں ہے اور لمبا عرصہ ہے الف کا ایک لام کے تیس میم کے چالیس اور ص کے نوے کل ایک سوا کاسٹھ ہوئے۔پھر پوچھا کیا ان کے سوا اور حروف بھی آپ پر نازل ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا وہ کیا ؟آپؐ نے فرمایا۔الٓـٰر اس نے کہا یہ اس سے بھی زیادہ گراں اور لمبا عرصہ ہے الف کا ایک لام کے تیس اور ر کے دوسو کل دوسو اکتیس ہوئے۔پھر کہنے لگا کیا ان کے سوا اور حروف بھی ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور وہ الٓمٓـٰر کے حروف ہیں اس پر وہ بولا کہ یہ تو پہلے سے بھی گراں اور لمبا عرصہ ہے الف کا ایک لام کے تیس میم کے چالیس اور ر کے دوسو ہوئے کل دو سواکہتر سال کا عرصہ ہوا پھر کہنے لگا اے محمد! (صلے اللہ علیہ وسلم) آپؐ کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہو گیا ہے۔پتہ نہیں لگتا آپؐ کولمبی عمر عطا ہوئی ہے یا چھوٹی پھر وہ اور اس کے ساتھی اُٹھ کر چلے گئے راستہ میں ابو یاسر نے اپنے بھائی اور دوسرے یہودی علماء سے کہا۔کیا معلوم کہ یہ سب زمانے محمد (صلے اللہ علیہ وسلم) کے لئے اکٹھے کر دئے گئے ہوں جن کی میزان سات سو چونتیس سال ہوتی ہے اس پر سب نے کہا کہ معاملہ کچھ مشتبہ ہی ہو گیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے ان حروف سے سالوں کی تعداد مراد لی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خیال کا اظہار بھی کیا تھا اور آپؐ نے اُن کے خیال کی تردید نہیں فرمائی۔یہود کا یہ خیال کہ ان حروف سے اُمتِ محمدؐیہ کا زمانہ بتایا گیا ہے ایک بالبداہت غلط بات ہے کیونکہ اُمت ِ محمدؐیہ کا زمانہ تو تاقیامت ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کاتردید نہ کرنا بھی کچھ معنے ضرور رکھتا ہے اور اس کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اور سورتوں کے مضامین کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حروف اپنی عددی قیمت کے لحاظ سے اس زمانہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے واقعات خاص طور پر اس سورۃ میں بیان کئے گئے ہیں جس کی ابتداء میں وہ حروف آئے ہیں خواہ اس لحاظ سے کہ بعثت نبوی ؐکے بعد اتنے عرصہ کے اختتام پر وہ واقعات ہوئے یا اس لحاظ سے