تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 93
مضمون قرآن جدید ہو جاتا ہے اور جب کسی سورۃ کے پہلے حروف مقطعات استعمال کئے جاتے ہیں تو جس قدر سورتیں اس کے بعد ایسی آتی ہیں جن کے پہلے مقطعات نہیں ہوتے ان میں ایک ہی مضمون ہوتا ہے اسی طرح جن سورتوں میں وہی حروف مقطعات دُہرائے جاتے ہیں وہ ساری سورتیں مضمون کے لحاظ سے ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہوتی ہیں۔اس قاعدہ کے مطابق میرے نزدیک سورۂ بقرہ سےلےکر سورہ توبہ تک ایک ہی مضمون ہے اور یہ سب سورتیں الٓمّٓ سے تعلق رکھتی ہیں۔سورۃ بقرہ الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے پھر سورۃ آل عمران بھی الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے پھر سورہ نساء، سورہ مائدہ اور سورہ انعام حروف مقطعات سے خالی ہیں اور اس طرح گویا پہلی سورتوں کے تابع ہیں جن کی ابتداء الٓمّٓ سے ہوتی ہے ان کے بعد سورہ اعراف الٓمّٓصٓ سے شروع ہوتی ہے اس میں بھی وہی الٓمّٓ موجود ہے ہاں حرف ص کی زیادتی ہوئی ہے اس کے بعد سورۃ انفال اور براء ۃ حروف مقطعات سے خالی ہیں۔پس سورۃ براء ۃ تک الٓمّٓ کا مضمون چلتا ہے سورۃ اعراف میں جو ص بڑھایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرف تصدیق کی طرف لےجاتا ہے۔سورہ اعراف انفال اور توبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی اور اسلام کی ترقی کا ذکر کیا گیا ہے سورۂ اعراف میں اصولی طور پر اور انفال اور توبہ میں تفصیلی طور پر تصدیق کی بحث ہے اس لئے وہاں ص کو بڑھا دیا گیا ہے۔سورۂ یونس سے الٓمّٓ کی بجائے الٓـٰر شروع ہو گیا ہے ال تو وہی رہا اور م کو بدل کر ر کر دیا۔پس یہاں مضمون بدل گیا۔اور فرق یہ ہوا کہ بقرہ سے لیکر توبہ تک تو علمی نقطہ نگاہ سے بحث کی گئی ہے اور سورۂ یونس سے لیکر سورۂ کہف تک واقعات کی بحث کی گئی تھی اور واقعات کے نتائج پر بحث کو منحصر رکھا گیا ہے اس لئے فرمایا کہ الٓـٰر یعنی اَ نَا اللّٰہُ اَرٰی میں اللہ ہوں جو سب کچھ دیکھتا ہوں اور تمام دنیا کی تاریخوں پر نظر رکھتے ہوئے اس کلام کو تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔غرض ان سورتوں میں رویت کی صفت پر زیادہ بحث کی گئی ہے اور پہلی سورتوں میں علم کی صفت پر زیادہ بحث تھی۔حروفِ مقطعات بے معنی نہیں میں فی الحال اس جگہ اختصاراً اتنی بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ حروف مقطعات کے متعلق بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ بے معنی ہیں۔اور انہیں یونہی رکھ دیا گیا ہے مگر ان لوگوں کی تردید خود حروف مقطعات ہی کر رہے ہیں۔حروف مقطعات کے استعمال میں ایک خاص ترتیب چنانچہ جب ہم تمام قرآن پر ایک نظر ڈا ل کر یہ دیکھتے ہیں کہ کہاں کہا ںحروف ِمقطعات استعمال ہوئے ہیں تو ان میں ایک ترتیب نظر آتی ہے۔سورۂ بقرہ الٓمّٓ