تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 60

میں جذبات محبت پیدا ہوئے۔اور اللہ تعالیٰ نے بغیر اس کے کہ وہ خاص الفاظ یا خاص انداز میں بیان کئے جاتے ان کو قبول کیا اور نوازا۔لیکن جب قرآن کریم نازل ہو گیا۔ہر اک امر کے لئے خاص قواعد بن گئے تو اب ان کے بغیر وہ نعمتیں حاصل نہیں ہو سکتیں جو اس سے پہلے حاصل ہو سکتی تھیں۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اور شریعت کی بنیاد رکھ دی اور اب اس قانون اور شریعت سے باہر رہنے والا ہرگزکامیاب نہیں ہو سکتا۔نبی کے مقام کی تشریح اس سوال پر ایک او رپہلو سے بھی نظر کی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ کیا نبی صرف ایک عہدہ کا نام ہے یا نبی کے لئے تقویٰ طہارت اور قربِ الی اللہ کی بھی شرط ہے؟ اگر ان باتوں کا پایا جانا نبی کے لئے شرط ہے توپھر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ غیر نبی۔نبی سے تقویٰ اور طہارت اور قرب الی اللہ میں زیادہ ہو؟ اگر تو اس کا جواب یہ مفسر اور ان کے ہمنوا یہ دیں کہ ہاں یہ ممکن ہے کہ ایک غیر نبی تقویٰ طہارت اور قربِ الی اللہ میں نبی سے بڑھ کر ہو توپھر نزاع لفظی رہ جاتی ہے۔لیکن اگر اس سوال کا جواب یہ ہو کہ غیر نبی نبی سے ان باتوں میں افضل نہیں ہو سکتا تو جو شخص یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ظلّی بروزی اور نبوت محمدؐیہ کی تابع نبوت بھی نہیں ہو سکتی وہ یہ کہتا ہے کہ اس امت میں کوئی شخص قرب الی اللہ کے اس مقام کو نہیں پہنچ سکتا جس مقام پر پہلے لوگ پہنچے تھے اور ایسا دعویٰ کرنے والا شخص یقیناً امتِ محمدؐیہ کو انعام سے محروم قرار دیتا ہے۔اجرائے نبوت کے متعلق ایک اعتراض کا جواب ایک اعتراض انہی مفسر صاحب نے یہ کیا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ تیرہ سو سال میں ایک مسلمان کی بھی دعا اس بارہ میں قبول نہ ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت تو دعا کی مقدار اور نوعیت پر منحصر ہے یہ معترض صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صدیقیت کا مقام اس امت میں مل سکتا ہے پس یہی سوال ان کے مسلمات کے متعلق بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس امت میں کتنے لوگوں کو صدیقیت کا مقام ملا ہے؟ اگر گزشتہ تیرہ سو سال میں صرف ابوبکرؓ کو ملا ہے تو یہی اعتراض پھر بھی پڑے گا کہ کیا تیرہ سو سال میں یہ دعا او رکسی کے حق میں قبول ہی نہ ہوئی اور اگر اوروں کو بھی ملا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اشخاص عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ سے بڑھ کر تھے یا کم؟ اگر کم تھے تو پھر یہ کیونکر ہوا کہ کم درجہ کے لوگ صدیق بن گئے اور بڑے درجہ کے لوگ شہید تک ترقی پا سکے صدیق نہ کہلا سکے۔غرض جو اعتراض نبوت کے اجراء پر ہوتا ہے وہی اعتراض صدّیقیت کا دروازہ کھلا تسلیم کر کے اس پر ہوتا ہے پس یہ اعتراض محض قلّتِ تدبر کی وجہ سے ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔اس آیت کے بارہ میں ایک اور نکتہ بیان کر دینا میں ضروری سمجھتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے