تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 59

ورنہ تمام حق کے متلاشی خواہ کسی مذہب کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں جب ان کے دل میں صداقت کے پانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو وہ انہی کے ہم معنی الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا اللہ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور اپنے پیاروں کا راستہ دکھا۔کیا کوئی معقول انسان بھی یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نبوت سے پہلے یہ خواہش پیدا نہ ہوئی تھی کہ خدا تعالیٰ انہیں سیدھا راستہ دکھائے اور اپنے پیاروں کی راہ پر چلائے۔اس قسم کا تو خیال بھی انسان کو کافر بنا دیتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی تڑپ ہی تو تھی جس نے خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنی طرف جذب کیا اس تڑپ کو ہی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔قرآنی الفاظ نے صرف یہ فرق پیدا کیا ہے کہ اول الفاظ ایسے چنے ہیں جو کامل ہیں اور ہر نقص سے پاک ہیں۔دوسرے ان کے ذریعہ سے ان کے دل میں بھی تڑپ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کے دل میں یوں تڑپ نہ ہوتی۔تیسرے امید پیدا کر دی گئی ہے کہ ایسی دعا کرو گے تو قبول ہو گی بلکہ حکم دیا ہے کہ یہ دعا کرو۔ورنہ یہ خیال کرنا کہ اس قسم کا مفہوم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا نہیں ہوتا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ہتک ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بھی ہتک ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تو سیدھا راستہ پانے کی کوئی تڑپ نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے زبردستی آپؐ کو نبی بنا دیا۔(نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ الْخَرَافَات) پھر اگر یہ اعتراض معقول ہے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے نزول سے پہلے نیک تھے یا نہیں خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار تھے یا نہیں۔خدا تعالیٰ کا قرب انہیں قرآن کریم کے نزول سے پہلے حاصل تھا یا نہیں؟ اگر ان باتوں کے جواب اثبات میں ہیں تو کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ پھر ہمیں اس نماز کی کیا ضرورت ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اس قسم کے روزہ کی کیا ضرورت ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اس قسم کے جہاد کی کیا ضرورت ہے۔یا اور دوسرے شرعی احکام کی کیا ضرورت ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہیں جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویٰ اور محبت ِ الٰہی بغیر ان احکام پر عمل کرنے کے حاصل ہو گیا تھا تو ہمیں بھی ان کے بغیر حاصل ہو جائے گا۔بلکہ دین کے معاملات کوجانے دو۔دنیوی چیزوں میں ہی اگر کوئی کہے کہ پہلی مرغی یا پہلا انڈا کیونکر بنا تھا۔پہلا دانہ اور پہلا درخت کیونکر بنا تھا؟ اب بھی اسی طرح بن جائےگا ہمیں ان کے پیدا کرنے کے لئے قانون قدرت کے مطابق کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس شخص کو ہر کوئی نادان کہے گا خدا تعالیٰ کا قانون اس وقت کے لئے جب بیج مٹ جاتا ہے اَور ہے اور جب بیج پیدا کر دیا جاتا ہے اَور ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کے نزول سے پہلے دنیا سے پاکیزہ تعلیم مٹ چکی تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک فطرت