تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 61

سورۃ فاتحہ کے جو نام بتائے ہیں ان میں سے دو نام اُمُّ الْقُرْآن اور اُمُّ الْکِتَاب بھی ہیں (ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ) میرے نزدیک یہ نام قرآن کریم ہی سے مستنبط ہیں اور ان کا ماخذ یہی آیت ہے۔اس آیت اور پہلی آیت میں بتایا ہے کہ عباد ت الٰہی کی آخری منزل یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے منعم علیہ گروہ والا صراط مستقیم طلب کرے۔اب اگر یہ دعا قبول ہو سکتی ہے تو ظاہر ہے کہ جب انسانی دل سے بہ حیثیت قوم اللہ تعالیٰ کی طرف پکار بلند ہو گی کہ ہم تباہ ہو رہے ہیں ہمارے لئے ہدایت کا راستہ کھولا جائے اور اس کے ساتھ اس زمانہ کے اس مکمل اور پاکیزہ دل کی التجا اور تڑپ بھی شامل ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کا مرد میدان بنایا ہے تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا رحم جوش مارے گا اور فضل ِ الٰہی الہام اور ہدایت کی صورت میں نازل ہو گا اسی طرح ہر زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے اور ہوتا چلا جائے گا۔نوح ؑ کے وقت کے مظلوموں کی دعائیں حضرت نوح علیہ السلام کے مطہر قلب کی گریہ و زاری سے مل کر اس کلام کو لائی تھیں جو نوح علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت کی ارواح کی پکار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قلب صافی کی تڑپ کے ساتھ مل کر صحفِ ابراہیم کے نزول کا موجب ہوئی تھی۔یہی قصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میںگزرا اور اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوا۔صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نزول قرآن کریم سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے الگ ہو کر غارِ حرا میں جا کر دعائیں اور عبادت کیا کرتے تھے یہ تو قلب اطہر کی حالت تھی جو اپنے خیالات کو پڑھنے کی طاقت رکھتا ہے اس کے علاوہ دنیا کی مخفی آہیں بھی آسمان کی طرف بلند ہو رہی تھیں ان سب نے مل کر خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کیا اور قرآن کریم نازل ہوا۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ درحقیقت اسی حالت کا نقشہ ہے جو نزول کلام سے پہلے دُنیا کی ہوتی ہے خصوصاً اس زمانہ کی پاکیزہ ارواح کی جن کے دل سے صرف آہ ہی نہیں اٹھتی بلکہ ان کے دماغ میں بھی ایک تلاطم برپا ہوتا ہے اور اسی کے نتیجہ میں اس زمانہ کا کلام نازل ہوتا ہے پس چونکہ یہ دعا سورۂ فاتحہ میں نازل ہوئی ہے او ریہی دعا ہے جو کلام الٰہی کے نزول کا موجب ہوئی ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کا نام اُمُّ الْقُرْآن اور اُمُّ الْکِتَاب رکھا۔یعنی سورۂ فاتحہ میں وہ مضمون بیان ہوا ہے جو نزول قرآن کا موجب ہوا اور چونکہ کسی امر کے وجود کا موجب بمنزلہ ماں کے ہوتا ہے اس لئے سورۃ فاتحہ اُمُّ الْقُرْآنکہلائی۔سورۃ فاتحہ کے قرآن عظیم ہونے سے مراد یہ بھی یاد رکھنے کے قابل بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم