تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 579
تفسیر۔آیت ماقبل میں لفظ خُشُوْع کے معنے کامل ایمان رکھنے اور ایک دن خدا کے سامنے حاضر ہونے کے متعلق پورا یقین رکھنے کے قرآن کریم کا یہ عام طریق ہے کہ جب کسی لفظ کو خاص معنوں میں استعمال کرتا ہے تو اس اصطلاح کی ساتھ ہی تشریح بھی کر دیتا ہے اس آیت میں بھی قرآنی اصطلاح کے مطابق خَاشِعِیْنَ کے معنے بتائے گئے ہیں خَاشِعٌ چونکہ ڈرنے والے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ عام ڈرنے والے کے معنوں میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور ایک دن اس کے سامنے حاضر ہونے پر انہیں پورا یقین ہے۔پس خَاشِعِیْنَ کے معنے اوپر کی آیت میں صرف ڈرنے والے کے نہیں کئے جائیں گے بلکہ اس سے مراد وہ شخص لیا جائے گا جس کا خوف خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین سے پیدا ہوتا ہے اور اس خوف کی بناء نقصان کے ڈر پر نہیں بلکہ اس امر پر ہے کہ میں اعلیٰ ترقیات سے محروم نہ رہ جائوں گویا یہ ڈر ایک بزدل کا ڈر نہیں بلکہ ایک عارف کی گھبراہٹ ہے جو دلیر سے دلیر آدمی میں بھی پائی جاتی ہے اور پائی جانی چاہیئے۔یہی وجہ ہے کہ یہود کو دنیاوی تکلیفوں سے ڈرنے سے روکتے ہوئے یہ فقرہ استعمال کیا گیا ہے کہ اس ڈر کا دُور کرنا ہے تو مشکل مگر خَاشِعِیْنَ کے لئے مشکل نہیں ڈر کے عام معنوں کے رو سے یہ فقرہ عجیب معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کی ظاہری شکل یوں بنتی ہے کہ لوگوں سے ڈرو نہیں بیشک ڈرنے سے بچنا مشکل ہے مگر ڈرنے والوں کے لئے مشکل نہیں۔مگر جیسا کہ بتایا گیا ہے۔اَلْـخُشُوْعُ کے معنے عام ڈر کے نہیں بلکہ ایک کامل ہستی پر ایمان رکھتے ہوئے قرب سے محروم رہنے کے خوف کے ہیں اور ان معنوں کی رو سے اس فقرہ میں کوئی امر قابلِ تعجب نہیں اور اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ دنیوی مشکلات سے نہ ڈرو یہ بیشک مشکل امر ہے لیکن جو لوگ اپنے لئے ایک اعلیٰ مقصد قرار دے لیں اور اس مقصد کو چھوڑنا ان پر سخت گراں گزرنے لگے ان کے لئے ایسے خطرات برداشت کرنے مشکل نہیں رہتے اس قسم کا ڈر درحقیقت بہادری اور احتیاط کی ایک قسم ہے نہ کہ بزدلی کا مظاہرہ۔وَ اَنَّهُمْ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو مابعدالموت زندگی پر اس کے مناسب حال زور دیتا ہے اسلام کے سوا کوئی اور مذہب تقویٰ کی بنیاد کو بعدالموت زندگی پر نہیں رکھتا۔اسلام اس دنیا کی زندگی کو ایک لمبی زندگی کی ایک کڑی قرار دیتا ہے جس میں انسانی روح کی تکمیل ہوتی ہے وہ اس زندگی کے ختم ہونے کو رُوح کی کشمکش کا خاتمہ قرار نہیں دیتا بلکہ اس کے بعد بھی اس کشمکش کو جاری بتاتا ہے صرف فرق یہ ہے کہ اس زندگی میں انسان نسبتی طورپر اندھیرے میں کوشش کرتا ہے اور مرنے کے بعد نیک و بد دونو ںکو ایک بصیرت حاصل ہو جاتی ہے جس کی