تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 578

بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ کلام محمد رسول اللہ کا ہے اور وہ اس طرح یہودیوں میں اپنے آپ کو مقبول بنانا چاہتے تھے مگر اس آیت کے الفاظ پر غور کرو کیا یہ الفاظ کسی شہرت کے طالب کے ہو سکتے ہیں؟ پھر یہ بھی سوچو کہ بنی اسرائیل نے باوجود اس نصیحت کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت قوم کے نہیں مانا مگر اس سے کس کا نقصان ہوا کیا اسلام کو اس سے کوئی نقصان بھی پہنچا؟ جس وقت یہ نصیحت کی گئی تھی صرف چند سو آدمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاچکے تھے لیکن اب چالیس کروڑ آدمی آپؐ کا کلمہ پڑھ رہا ہے ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی ہے اور اب پھر ان کی ترقی کے سامان اللہ تعالیٰ پیدا کر رہا ہے۔بنی اسرائیل اگر آپ پر ایمان لے آتے تو وہ ان حالات میں اور کیا تبدیلی کر دیتے اگر کچھ فائدہ تھا تو انہی کا تھا۔ان میں سے لاکھوں مسیحی ہوئے ہیں مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے ؟ملکوں میں سے نکالا جانا۔جائدادوں کا لُوٹا جانا ان کا حصہ ہے اور نہ وہ اِدھر کے رہے ہیں نہ اُدھر کے۔اگر اسلام لاتے تو آج کروڑوں مسلمانوں کے برابر کے شریک ہوتے اور کوئی ان کو غیر قرار دے کر دُکھ نہ دیتا پس ان حالات کے باوجود مسیحی مصنفوں کا یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل کو لالچ دے کر اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے ایک خلافِ عقل اور خلافِ واقع اعتراض ہے محض بنی اسرائیل کے فائدہ کی ایک بات کہی گئی تھی انہوں نے نہ مانا اور تکلیف اُٹھا رہے ہیں۔الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَيْهِ جو( اس بات پر) یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور( اس بات پر بھی )کہ وہ اسی کی طرف رٰجِعُوْنَؒ۰۰۴۷ لوٹ کر جانے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔یَظُنُّوْنَ۔یَظُنُّوْنَ ظَنَّ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ظَنَّ الشَّیْ ءَ کے معنے عَلِمَہٗ وَاسْتَیْقَنَہٗ کہ کسی چیز کو معلوم کیا اور اس کے متعلق یقین کر لیا اور اَلظَّنُّ کے معنے کے ماتحت لکھا ہے ھُوَ الْاِعْتِقَادُ الرَّاجِـحُ مَعَ اِحْتِمَالِ النَّقِیْضِ وَیُسْتَعْمَلُ فِی الْیَقِیْنِ وَالشَّکِّ یعنی ظنّ کے معنے زیادہ تر خیال غالب کے ہوتے ہیں اور بعض وقت وہ یقین کے معنے میں اور بعض وقت شک کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) اس آیت میں ظن بمعنے یقین کے استعمال ہوا ہے اور یَظُنُّوْنَ کے معنے ہیں وہ یقین رکھتے ہیں۔