تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 572
دوبارہ وارث ہو سکو گے جن کا وعدہ عہد ابراہیم میں بیان ہوا ہے۔اس تشریح کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ تا کوئی یہ دھوکا نہ کھائے کہ یہود کے لئے تورات کے احکام پر عمل کرنا اب بھی کافی ہے اور یہ امر واضح ہو جائے کہ اب عمل صالح سے مراد وہی عمل ہو گا جو شریعت محمدیہ میں نازل ہوا ہے اور اسی صورت میں مقبول ہو گا کہ اسلامی طریق کے مطابق ادا کیا جائے۔اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ کیا تم (دوسرے) لوگوں کو( تو) نیکی (کرنے) کے لئے کہتے ہو اور اپنے آپ کو فراموش کردیتے ہو حالانکہ تم اپنی تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۰۰۴۵ کتاب پڑھتے ہو پھر بھی کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔حَلّ لُغَات۔اَلْبِرُّ۔اَلْبِرُّ (۱) اَلصِّلَۃُ۔انعام۔احسان اور عطیہ۔(۲) اَلطَّاعَۃُفرمانبرداری۔(۳)اَلصِّدْقُ سچائی۔(اقرب) تاج العروس میں ہے اَصْلُ مَعْنَی البِرِّ اَلسَّعَۃُکہ بِرّ کے اصل معنے وسعت کے ہوتے ہیں ثُمَّ ھَاعَ فِی الشَّفْقَۃِ وَالْاِ حْسَانِ وَالصِّلَۃِ پھر یہ لفظ شفقت۔احسان اور انعام عطیہ وغیرہ کے معنوں میں مشہور ہو گیا۔ابو منصور جو لغت کے امام ہیں کہتے ہیں کہ اَلْبِرُّ۔خَیْرُ الدُّنَیا وَالْاٰخِرَۃِ۔بِرّ کے لفظ کے اندر دنیا و آخرت ہر دو کی بھلائیاں آ جاتی ہیں۔نیز اَلْبِرُّ کے معنے ہیں (۱) اَلصَّلَاحُ صلاحیت۔(۲) اَلْخَیْرَ بھلائی۔(۳) اَ لْاِ تِّـسَاعُ فِی الْاِحْسَانِ اِلَی النَّاسِ۔لوگوں کے ساتھ احسان کرنے میں وسعت۔(تاج العروس) تَنْسَوْنَ۔تَنْسَوْنَ نَسِیَ (یَنْسٰی) سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور نَسِیَ الشَّیْئَ نَسْیًا کے معنے ہیں ضِدُّ حَفِظَہٗ کسی چیز کو بھول گیا۔قَالَ الرَّاغِبُ ’’ اَلنِّسْیَانُ تَرْکُ الْاِنْسَانِ ضَبْطَ مَا اسْتُـوْدِعَ اِمَّا لِضَعْفِ قَلْبٍ وَ اِمَّا عَنْ غَفْلَۃٍ وَ اِمَّا عَنْ قَصْدٍ حَتّٰی یَنْحَذِفَ عَنِ القَلْبِ ذِکْرُہٗ‘‘ امام راغب لکھتے ہیں کہ انسانی دماغ میں جو باتیں محفوظ ہوں ان کو اس کا ضائع کر دینا نسیان کہلاتا ہے خواہ یہ ضائع کرنا اس کی دماغی کمزوری کا نتیجہ ہو خواہ غفلت کی وجہ سے ہو یا ارادۃً ہو حتّٰی کہ ان باتوںکا نقش ذہن سے مٹ جائے۔(اقرب) تاج العروس میں لفظ نِسْیَان کی تشریح میں لکھا ہے اَکْثَرُ اَھْلِ اللُّغَۃِ فَسَّرُوْہُ بِالتَّرْکِ۔کہ اکثر اہل لغت