تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 571

اسی طرح بیشک تم قومی چندے دیتے ہو مگر اب تو شریعت محمدیہ کے مطابق زکوٰۃ نہ دو گے تو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہ کر سکو گے اسی طرح بیشک تمہاری عبادات اور تمہارے اعمال شرک سے ایک حد تک پاک ہوں گے مگر اب وہ معیار توحید کا جو پہلے تھا بدل گیا ہے اب تو اس وقت تک تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں ہو سکتے جب تک اس معیار توحید کو قائم نہ کرو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ کی تشریح وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ میں زکوٰۃ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یہ ایک مقررہ طریقہ اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ہے زکوٰۃ کے بارے میں آ گے چل کر تفصیلی بحث ہو گی اسی سلسلہ میں آیت ۳ سورہ ہذا بھی دیکھ لینی چاہیے جس میں اسلامی ذمہ داریاں مال کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَمیں لفظ رکع کے معنے موحد کے وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ میں جو لفظ رَکَعَ استعمال ہوا ہے اس کے بارہ میں حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ اس کے معنے علاوہ رکوع یعنی جھکنے کے موحدانہ زندگی بسر کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔حقیقت الاساس میں لکھا ہے کَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّیْ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَلَمْ یَعْبُدِ الْاَوْثَانَ رَاکِعًا۔یعنی عرب لوگ اسے جو اللہ پر ایمان لاتا ہو اور بتوں کی پوجا نہ کرتا ہو رَاکِعٌ کہتے ہیں اسی طرح لسان العرب میں لکھا کہ رَاکِعٌ توجہ کو خالص ایک طرف کر دینے والے کو کہتے ہیں اور اس کی تائید میں نابغہ ذبیانی کا یہ شعر لکھا ہے ؎ سَیَبْلُغُ عُذْرًا اَوْ نَجَاحًا مِنِ امْرَءٍ اِلٰی رَبِّہٖ رَبِّ الْبَرِیَّۃِ رَاکِعُ یعنی وہ شخص جو صرف اپنے رب کی طرف جو سب دنیا کا رب ہے خالص طور پر متوجہ ہو جاتا ہے ضرور یا نجات پا جائے گا یا معذور قرار پا جائے گا۔پس وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ کے معنے اس جگہ نماز کے رکوع کے نہیں کیونکہ نماز میں صرف رکوع ہی نہیں ہوتا بلکہ رکوع کے سوا اور اجزاء بھی ہوتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہ تھی کہ صرف رکوع کا ذکر کیا جاتا۔دوسرے اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ میں نہ صرف خالی نماز کا بلکہ باجماعت نماز کا ذکر ہو چکا ہے جس میں قیام رکوع سجدہ سب ہی شامل ہیں۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ ساری نماز کا جس میں رکوع بھی شامل ہے ذکر کر کے صرف رکوع کا الگ ذکر کیا جائے۔پس ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رکوع کے معنے اور ہیں نماز والے رکوع کے نہیں اور وہ معنے مَیں اوپر بیان کر چکا ہوں پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے کی تلقین کی پھر مسلمانوںکی طرح زکوٰۃ دینے کی تلقین کی پھر یہ حکم دیا کہ مسلمانوں کی طرح اپنے سب اعمال کو خدا تعالیٰ کے لئے کر دو اور کامل توحید کو اختیار کر لو شرک کی ملونی کو اپنے اعمال سے بالکل جدا کر دو تب جا کر تم ان فضلوں کے