تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 570
گیا (یہ مجازی معنے ہیں) اور رَکَعَ الْمُصَلِّیْ فِی الصَّلٰوۃِ رُکُوْعًا کے معنے ہیں خَفَضَ رَأْسَہٗ بَعْدَ قَوْمَۃِ الْقِرَاءَ ۃِ حَتّٰی تَنَالَ رَاحَتَاہُ رُکْبَتَیْہِ اَوْحَتّٰی یَطْمَئِنَّ ظَھْرُہٗ۔نمازی نے قراء ت کے بعد گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کمر کو جھکایا نیز لکھا ہے وَالرَّاکِعُ کُلُّ شَیْ ءٍ یَخْفِضُ رَأْسُہٗ اور ہر اس چیز پر جو سر نیچے جھکائے رکھتی ہے رَاکِع کا لفظ بولتے ہیں۔(اقرب) مفردات میں ہے اَلرُّکُوْعُ اَ لْاِنْحِنَاءُ کہ رکوع کے معنے جھک جانے کے ہیں۔فَتَارَۃً یُسْتَعْمَلُ فِی الْھَیْئَۃِ الْمَخْصُوْصَۃِ فِی الصَّلٰوۃِ وَ تَارَۃً فِی التَّوَاضُعِ وَالتَّذَلُّلِ اِمَّا فِی الْعِبَادَۃِ وَ اِمَّا فِیْ غَیْرِھَاکبھی تو یہ لفظ اس مخصوص ہیئت پر استعمال کیا جاتا ہے جو نماز میں کی جاتی ہے۔یعنی قرأت کے ختم کرنے کے بعد گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا۔اور کبھی یہ لفظ عاجزی کرنے اور تذّلل اختیار کرنے پر بولا جاتا ہے خواہ یہ عاجزی نماز میں کی جائے یا اس کے علاوہ کسی اور حالت یا مقام میں۔(مفردات) تاج العروس میں ہے کُلُّ شَیْ ءٍ یَنْکَبُّ لِوَجْھِہٖ فَتَمَسُّ رُکْبَتَیْہِ الْاَرْضَ اَوْ لَا تَمَسُّہَا بَعْدَ اَنْ یَّخْفِضَ رَأْسَہٗ فَھُوَ رَاکِعٌ کہ ہر اُس چیز پر جو اوندھے منہ ہو کر چلتی ہے رَاکِعٌ کا لفظ بولتے ہیں (گویا اس کی ہیئت کذائی عاجزی پر دلالت کرتی ہے) وَقَالَ ثَعْلَبٌ۔اَلرُّکُوْعُ: اَلْخُضُوْعُ۔لغت کے مشہور امام ثعلب کہتے ہیں کہ رکوع کے معنے عاجزی کرنے کے ہوتے ہیں۔وَکَانَتِ الْعَرَبُ فِی الْجَا ھِلِیَّۃِ تُسَمِّی الْحَنِیْفَ رَاکِعًا اِذَا لَمْ یَعْبُدِ الْاَ وْ ثَانَ وَ یَقُوْلُوْنَ رَکَعَ اِلَی اللّٰہِ اور عرب لوگ قبل اسلام موحد کو راکع کہتے تھے کیونکہ وہ بتو ںکی پوجا نہ کرتا تھا اور اس کے لئے رَاکِعٌ کا لفظ اس لئے استعمال کرتے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کی (تاج) الغرض رَکَعَ کے لفظ کے اندر عاجزی اور تذلل کے معنے پائے جاتے ہیں پس رَاکِعٌ کے معنے ہوں گے۔(۱) عاجزی کرنے والا (۲) اللہ تعالیٰ کی خالص پرستش کرنے والا۔اور اِرْکَعُوْا کے معنے ہوں گے تم عاجزی کرو۔(۲) تم اللہ تعالیٰ کی خالص پرستش کرو۔تفسیر۔آیت ھٰذا میں بنی اسرائیل کو اعمال کی درستی کی توجہ دلائی گئی ہے پہلی آیات میں ایمان کی درستی کی بنی اسرائیل کو ہدایت کی تھی اب اعمال کی درستی کی طرف توجہ دلائی ہے اور فرماتا ہے کہ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل تمہارے لئے ضروری ہے اسی طرح آپ پر ایمان لا کر اپنے اعمال کی درستی تمہارے لئے ضروری ہے بیشک تم اپنے رنگ میں عبادت کرتے ہو مگر اب وہ عبادات تمہاری مقبول نہیں۔اب تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کے مطابق نمازیں پڑھو گے تو عبادت قبول ہو گی۔