تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 560
کی ابتدائی حالت کی تصدیق کی جائے مثلاً اس امر کا اقرار کہ وہ ابتدا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اور ان کے پیش کرنے والے راستباز تھے جھوٹے نہ تھے گو اب اس کتاب میں لوگوں نے خرابیاں پیدا کر دی ہیں۔میں ثابت کر چکا ہوں کہ کلّی تصدیق پہلی کتب کی نہ تو ممکن ہے اور نہ قرآن کریم ایسا کر سکتا ہے ممکن اس لئے نہیں کہ وہ سب کتب اس وقت دنیا میں موجود ہی نہیں اور قرآن کریم کی شان کے لائق اس لئے نہیں کہ وہ خود ہی ان کتب کی غلطیاں بیان کرتا ہے پس جب وہ ان کتب کی غلطیاں بیان کرتا ہے تو ان کی تصدیق کیونکر کر سکتا ہے؟ اب صرف دو طریق تصدیق کے رہ گئے۔جزُئی تصدیق یا ابتدائی حالت کی تصدیق۔قرآن مجید کی دو طرح سے کتب سماویہ کی تصدیق سو سابق کتب کی تصدیق قرآن کریم انہی دو طریق سے کرتا ہے جو کتب تو دنیا میں موجود ہیں ان کی تو دونوں قسم کی تصدیق کرتا ہے یعنی ان کے بعض مسائل کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی بعض پیشگوئیوں کو اپنی ذات میں پورا کر کے انہیں سچا ثابت کرتا ہے دوسری تصدیق وہ یہ بھی کرتا ہے کہ سب کتب سماویہ کے متعلق وہ یہ خبر دیتا ہے کہ جس وقت انہیں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا وہ سچی تھیں۔وہ حضرت آدمؑ کے الہام۔حضرت نوح ؑ کے الہام۔حضرت ابراہیم ؑ کے الہام۔حضرت موسیٰ ؑ کے الہام۔حضرت مسیح ؑ کے الہام۔حضرت کرشنؑ کے الہام۔حضرت رامچندرؑ کے الہام۔حضرت زردشتؑ کے الہام اور باقی ان تمام انبیاء کے الہامو ںکی تصدیق کرتا ہے جو وقتاً فوقتاً اور مختلف ملکوں اور قوموں میں ظاہر ہوئے خواہ ان کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں چنانچہ فرماتا ہے وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ(المؤمن :۷۹) یعنی اے محمد رسول اللہ! ہم تجھ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے قرآن میں کیا ہے اور بعض کا نہیں کیا اور یاد رکھو کہ کسی رسول کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی نشان لے آئے۔پس جب اللہ کا حکم آ جائے تو سچائی کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور جو بھی جھوٹا ہو ہلاک ہو جاتا ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف وہی نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں ان کے سوا اور لوگ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آ چکے ہیں پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جن کا ذکر قرآن کریم میں نہیںہم کیونکر جانیں کہ وہ سچے تھے تو اس کی یہ علامت بتائی ہے کہ رسول نشان لے کر آتا ہے اور نشان خدا تعالیٰ کی امداد کے بغیر کوئی نہیں دکھا سکتا۔پس جو نشان دکھاتا ہے وہ یقینا سچا ہے پھر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ بہت سے نشان عینی شہادت اور واقعات کے تفصیلی علم کو چاہتے ہیں اور مختلف اقوام جن لوگوں کو بطور اپنے نبیوں کے پیش کرتی ہیں ان کے تفصیلی حالات کا ہمیں علم نہیں پھر ان