تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 559
بہت سے زمانوں کا لکھا ہوا بتاتے ہیں کونسا کلام خدا کا ہے جس کی ہم تصدیق کریں۔اورکونسا انسانوں کا ہے کہ جسے ہم ردّ کرنے کے مجاز ہوں؟ اسی طرح انجیل میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے کہا کہ ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو یہاں کھڑے ہیں بعضے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اپنی بادشاہت میں آتے دیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔‘‘ (متی باب ۱۶ آیت ۲۸) لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ سب لوگ مر گئے اور اس وقت تک ان کی سوسو ُپشت مر چکی ہے مگر مسیحیوں کے نزدیک ابھی تک ابن آدم اپنی بادشاہت میں نہیں آیا اگر مسیح کی آمد سے اس کی قوم کی ترقی مراد لی جائے تب بھی یہ بات غلط ہوئی کیونکہ مسیحیوں کو ترقی تین سو سال واقعہ صلیب کے بعد ملی اور اس وقت تک ایک آدمی بھی مسیح کے زمانہ کا زندہ نہ تھا اب یہ پادری صاحبان جو تصدیق کے معنے اس کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ہمیں بتائیں کہ قرآن کریم اس قسم کی باتو ںکی کس طرح تصدیق کر سکتا ہے؟ قرآن مجید کا عام معنوں کے لحاظ سے تورات اور انجیل کی تصدیق کرنا ان کے محرّف ہونے کی وجہ سے ناممکن ہے بڑی بات تو یہ ہے کہ مسیحی صاحبان کے نزدیک اناجیل میں مسیح کی خدائی اور اقنوم ثلاثہ کا ذکر ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (المائدۃ :۷۴) یعنی وہ لوگ جو کہتے ہیں اللہ تین اقنوم میں سے ایک اقنوم ہے (یعنی نصاریٰ) وہ کافر ہیں اور حق یہی ہے کہ دنیا کا معبود صرف ایک ہی ہے اور اگریہ شرک کرنے والے لوگ اپنے شرک سے رکیں گے نہیں تو جو اُن میں سے کفر پر اصرار کریں گے انہیں درد ناک عذاب پہنچے گا۔یہ آیت اور ایسی ہی اوربہت سی آیات صاف بتاتی ہیں کہ قرآنِ کریم اس انجیل کا یقینا مصدّق نہیں جسے مسیحی لوگ پیش کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ کریم انجیل کے اس مفہوم کا ہر گز مصدّق نہیں جسے آج کل کے مسیحی لوگ پیش کرتے ہیں پھر ان معنوں سے مسیحی لوگ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ تصدیق انسانوں کی دو طرح ہوتی ہے۔اوّل یہ کہ کسی انسان کو راستباز کہا جائے دوم یہ کہ اس کی کسی بات کو سچا ثابت کر دیا جائے خواہ زبان سے مثلاً کہا جائے کہ اس قول میں یہ سچا ہے یا فعل سے کہ عملاً اس کے قول کی تصدیق کی جائے مثلاً اس نے اس کے متعلق کسی کام کے کرنے کی خبر دی ہو اور یہ وہ کام کر دے۔کتب سماویہ کی تصدیق تین طرح ہوتی ہے لیکن کتب سماویہ کی تصدیق تین طرح ہوتی ہے اس طرح بھی کہ انہیں کلیّ طور پر سچا کہا جائے، اس طرح بھی کہ ان کے بعض حصص کی تصدیق کی جائے اور اس طرح بھی کہ ان