تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 561

کی سچائی کو کس طرح معلوم کریں تو اس سوال کا جواب اس طرح دیا کہ ایک نشان ایسا ہے جو سب نبیوں میں مشترک ہے اور وہ اپنی شہادت ہر وقت ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے آخر کار (۱) اس کے مخالف ہلاک ہو جاتے ہیں اور (۲) اس کا نام دنیا میں رہ جاتا ہے اور اس کے اتباع کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے جس مدعی ٔالہام کی تائید میں یہ امر دیکھو سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ کی تائید اس کے حق میں ہے اور وہ جھوٹا نہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم صرف انہی انبیاء کا مصدّق نہیں جن کے نام اس نے لئے ہیں بلکہ اُن انبیاء کا بھی مصدّق ہے جن کے نام اس نے نہیں لئے اور جب وہ ایسے انبیاء کا مصدّق ہے تو ان کے کلام کا بھی مصدّق ہے اور اس ناپید یا غیر مذکور کلام کی تصدیق اسی طرح ہو سکتی ہے کہ اجمالاً ایمان لایا جائے کہ وہ سچے ہیں پس تصدیق کے دوسرے معنے اجمالی ایمان کے ہیں یعنی ان کلاموں کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اور ایسی ہی تصدیق قرآن کریم یہود و نصاریٰ کی کتب کی بھی کرتا ہے پس اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ قرآن کریم ان کی موجودہ صورت کو صحیح قرار دیتا ہے ظلم ہے اور دیگر آیاتِ قرآنیہ اور واقعات اور خود ان کی کتب کی اندرونی شہادت کے خلاف ہے۔تصدیق کو لِمَا مَعَکُمْ کے الفاظ کے ساتھ مقیدّ کرنے کے لحاظ سے قرآن مجید کے تورات و انجیل کے مصدّق ہونے کا مطلب یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آیت زیر بحث میں تورات و انجیل کی تصدیق کا ذکر نہیں بلکہ لِمَا مَعَکُمْ کی تصدیق کا ذکر ہے یعنی قرآن جو کچھ ان کے پاس ہے اس کا مصدّق ہے اب اگر ان الفاظ کے وسیع معنے لئے جائیں تو ان کے یہ معنے ہوں گے کہ ان کے قصوں کہانیوں کی بھی وہ تصدیق کرتا ہے لیکن یہ معنے بالبداہت باطل ہیں اور یہ ماننا پڑے گا کہ ان الفاظ کو بعض قیود سے مقیّد کرنا ہو گا اور وہ قیود معقول طور پر یہی ہو سکتی ہیں (۱) اس کے یہ معنے لئے جائیں کہ جو مضمون اس قسم کی آیات سے پہلے یا بعد میں بیان ہو رہا ہے یہ الفاظ ساری کتاب کی نہیں بلکہ صرف اس کی تصدیق کے بارہ میں ہیں اور یہ مطلب لیا جاوے کہ اس مسئلہ کے متعلق جو تعلیم ہماری ہے وہی تمہاری کتب میں ہے پس تصدیق خاص ہو گی نہ کہ عام۔انہی معنوں کے رو سے میں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ قرآن کریم تمہاری کتب میں بیان شدہ پیشگوئیوں کی تصدیق کرتا ہے یعنی انہیں پورا کرتا ہے (۲) یا پھر لِمَا مَعَکُمْ کو اس حد بندی سے محدود کیا جائے گا کہ تمہارے پاس جو خدا کا کلام ہے اس کی تصدیق قرآن کریم کرتا ہے اور ان معنوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں اس میں کیا شک ہے کہ پہلی کتب میں جو خدا کا کلام ہے اس کی تصدیق ہر دوسرے آسمانی کلام کو کرنی چاہیئے مگر اس تصدیق کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ جو کچھ