تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 558

قوموں کے لئے ضروری ہو گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نبیوں کے متعلق فرماتا ہے۔وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ(فاطر:۲۵) کوئی قوم ایسی نہیں گزری کہ اس میں نبی نہ آیا ہو پھر اس کے بعد فرمایا ہے۔وَ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ(فاطر:۳۲) یعنی جو کتاب اللہ تعالیٰ نے تجھ پر وحی سے نازل کی ہے وہ ساری کی ساری حق ہے اور اس سے پہلے جس قدر و حیاں نازل ہو چکی ہیں سب کی مصدّق ہے اور اللہ تعالیٰ یقینا اپنے بندوں سے خبردار اور ان کے حال کا دیکھنے والا ہے ان آیات کو پہلی آیت کے ساتھ ملا کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی سب دنیا میں اور ہر قوم میں آئے ہیں اور یہ کہ اس آیت کا موعود نبی ہر نبی کی کتاب کا مصدّق ہو گا اور ہر نبی کی امت کو اس پر ایمان لانا ہو گا۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس قسم کی تصدیق قرآن کریم بائبل کی کرتا ہے ویسی ہی تصدیق وہ ویدوں کی بھی کرتا ہے اور ویسی ہی تصدیق وہ ژند کی بھی کرتا ہے اور ویسی ہی ان تمام نبیوں کی کتب کی جو دنیا کے کسی گوشہ میں گزرے ہوں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان سب کتب کی موجودہ شکلو ںمیں شدید اختلاف ہے اگرانہیں موجودہ شکل میں درست قرار دیا جائے تو چونکہ وہ ایک دوسرے کی مکذّب ہیں مذہب کا کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔او رہم انہیں موجودہ شکل میں خدا تعالیٰ کی کتاب کہہ کر گویا خود ان نبیوں کی تکذیب کرتے ہیں جن کی طرف وہ منسوب ہیں مثلاً کیا ہم موجودہ تورات کو کلیّ طور پر موسیٰ ؑ کا الہام کہہ سکتے ہیں اس میں تو یہ لکھا ہے ’’سو خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سر زمین میں مر گیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘ (استثنا باب ۳۴ آیت ۵ و ۶) پھر لکھا ہے۔’’اور نون کا بیٹا یشوع دانائی کی روح سے معمور ہوا کیونکہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اس پر رکھے تھے اور بنی اسرائیل اس کے شنوا ہوئے اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو فرمایا تھا انہو ںنے ویسا ہی کیا۔اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں اُٹھا جس سے خداوند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔‘‘ (استثنا باب ۳۴ آیت ۹ و ۱۰) ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ موسیٰ کی وفات کے لمبے عرصہ بعد لکھی گئی ہیں بلکہ اس وقت جبکہ موسیٰ کی قبر کا نشان تک مٹ گیا تھا اور بہت سے نبی بنی اسرائیل میں آ چکے تھے کیونکہ لکھا ہے اب تک موسیٰ کی مانند نبی بنی اسرائیل میں کوئی نہیں آیا۔کیا کوئی عقلمند مان سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنی وفات کے سینکڑوں سال بعد دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور یہ الفاظ اپنی کتاب میں بڑھا گئے تھے اگر ایسا نہیں بلکہ کسی اور ہاتھ نے صدیوں بعد موسیٰ کی کتاب کے آخر میں یہ الفاظ بڑھا دیئے تھے تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اور کیا کیا اس کتاب میں نہ بڑہا دیا ہو گا ؟پھر قرآن کریم کی تصدیق ہم کس کس آیت پر چسپاں کریں اور کیونکر معلوم کریں کہ اس محرف کتاب میں کہ جسے آج بائبل کے اپنے علماء بھی بہت سے ہاتھوں اور