تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 555
ہونے کی شرط ہے نیز مسیح میں یہ بات بھی پائی نہیں جاتی کہ جو اس پر گرے ُچور ُچور ہو جائے اور جس پر وہ گرے اسے نیست کر دے لوگ مسیح پر گرے اور اسے ایذا دی اور اُسے کسی پر گرنے کا موقعہ ہی نہیں ملا۔اب اگر یہ پیشگوئیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے پوری نہ ہوتیں تو دائودؑ۔یسعیاہؑ۔دانیالؑ۔اور مسیح علیہ السلام سب کے سب نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ جھوٹے قرار پاتے۔پس ان پیشگوئیوں کو پورا کر کے قرآن کریم نے ان انبیاء کے کلام کی تصدیق کی ہے۔تصدیق نمبر ۷ قرآن مجید اور آنحضرتؐ کا مسیح کے حواریوں کے اقوال کی تصدیق کرنا کتاب اعمال میں لکھا ہے ’’پس توبہ کرو اور متوجہ ہو کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں تاکہ خداوند کے حضور سے تازگی بخش ایاّم آویں اور یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ آسمان اسے لئے رہے اس وقت تک کہ سب چیزیں جن کا ذکر خدا نے اپنے سب پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا اپنی حالت پر آویں کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اُٹھاوےگا جو کچھ وہ تمہیں کہے اس کی سب سنو اور ایسا ہو گا کہ ہر نفس جو اس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا بلکہ سب نبیوں نے سموایل سے لے کے پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے تم نبیوں کی اولاد اور اس عہد کے ہو جو خدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراھام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں گے تمہارے پاس خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اُٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی بدیوں سے پھیر کے برکت دے‘‘ (اعمال باب ۳ آیت ۱۹ تا ۲۶) یہ پیشگوئی اعمال میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ پیشگوئی بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام نے کی ہو گی کیونکہ حواری انہی کے اقوال کو نقل کرتے ہیں اور مسیحیوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ حواری جو کچھ کہتے تھے مسیح کے روحانی اثر کے نیچے کہتے تھے اسی وجہ سے حواریوں کے اعمال و اقوال کو انہو ںنے الہامی نوشتوں میں جگہ دی ہے اور بائبل کا حصہ قرار دیاہے علاوہ ازیں جیسا کہ تصدیق نمبر ۶ میں بیان کیا جا چکا ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے دوسرے لفظوں میں اس پیشگوئی کو بیان کیا ہے پس جو کچھ اعمال کے حوالہ میں کہا گیا ہے ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کہا ہوا ہے۔اس حوالہ میں مندرجہ ذیل امور بیان ہوئے ہیں (۱) مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نازل نہ ہوں گے جب